تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران جنگ کے دوران امریکی فوجی طیاروں کے نقصانات سے متعلق امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس (CRS) کی تازہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نقصانات رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مئی میں کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران 42 امریکی فوجی طیاروں کے تباہ یا متاثر ہونے کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ تازہ رپورٹ میں یہ تعداد بڑھ کر 81 طیاروں تک پہنچ گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، حقیقت میں امریکی فوجی طیاروں کو پہنچنے والا نقصان 81 سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے اس مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ خطے میں اس کے تمام فوجی اڈے محفوظ ہیں۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ اگر امریکی فوجی اڈے واقعی محفوظ ہیں تو CENTCOM کسی موجودہ امریکی سینیٹر کو ان اڈوں کا معائنہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔
انہوں نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ وقت کے لیے لوگوں کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے، لیکن تمام لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔
دوسری جانب، 5 اکتوبر کو اپ ڈیٹ کی گئی CRS رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں 81 فکسڈ ونگ، ہیلی کاپٹر اور ڈرونز مبینہ طور پر تباہ یا نقصان زدہ ہوئے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تعداد عوامی رپورٹس، امریکی محکمہ دفاع، CENTCOM اور انسپکٹر جنرل کی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے اور مستقبل میں اس میں تبدیلی ممکن ہے۔








