حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت کے چند گوشے

جنید شیخ
24-Jan-2026 | دین و دنیا

حضرت سیدنا امام ا حسین رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ و حضرت علی رضی اللہ عنہما کے بیٹے، حضرت امام حسن کے بھائی اور حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت 5شعبان المعظم 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب امام حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے کان میں اذان دی۔
اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھٹی دی، آپ کا نام ”حسین“ رکھا اور آپ کو اپنا بیٹا فرمایا۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دنبوں کے ذریعے آپ رضی اللہ عنہ کا عقیقہ فرمایا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آپ کا سَر مونڈانے اور سَر کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کے ساتھ گھر سے باہر نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کندھے پر حضرت امام حسن کو اور دوسرے کندھے پر امام حسین کو سوار فرمایا ہوا تھا، رحمت عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی امام حسن کا بوسہ لیتے تو کبھی امام حسین کا بوسہ لیتے یہاں تک کہ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشا کی نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سجدے میں گئے تو امام حسن اور امام حسین آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک پیٹھ پر چڑھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے سے سَر مبارک اُٹھاتے ہوئے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے آہستہ سے اُتار دیا، جب آپ نے دوبارہ سجدہ کیا تو ان دونوں نے پھر اسی طرح کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری ادا فرما لی اور ان دونوں کو اپنی رانوں پر بٹھا لیا۔
حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی، یَارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا میں ان دونوں کو ان کی والدہ کے پاس چھوڑ آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، نہیں، جب ایک بجلی سی چمکی تو آپ نے ان دونوں سے فرمایا کہ اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ، تو روشنی اس وقت تک ٹھہری رہی جب تک امام حسن اور امام حسین گھر میں داخل نہ ہوگئے۔
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہُ عنہ کو اپنی گود میں بٹھایا، سونگھا، اپنے سینے سے لگایا، اپنی مبارک چادر میں لیا، آپ کو جنتی جوانوں کا سردار اور دنیا میں میرا پھول فرمایا۔
فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ پاک اس سے محبت فرماتا ہے جو حسین سے محبت کرے۔
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے عرض کرنے پر آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی وراثت سے شُجاعت اور سخاوت عطا فرمائی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی، اے اللہ! میں اس (یعنی امام حسین رضی اللہُ عنہ) سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اس سے محبت فرما۔
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے وقت آپ رضی اللہ عنہ تقریباً 6 سال 6ماہ کے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے 56سال 5ماہ کی عمر میں 10محرم الحرام 61ھ کو جام شہادت نوش فرمایا۔
نمایاں خبریں