LogoTuesday, February, 3, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

معاشرے میں بھائی چارےکو فروغ دیں

معاشرے میں بھائی چارےکو فروغ دیں

جیند شیخ

29-Jan-2026 | دین و دنیا

معاشرے میں بھائی چارےکو فروغ دیں

اخوت کا لفظ اَخ سے نکلا ہے اَخ کے معنی بھائی اور اخوت کا معنی بھائی چارہ ہے۔ اُمت مسلمہ کے افرادکو محبت اور پیار کی لڑی میں پرونے کے لیے ان میں اَخوت کا رشتہ قائم کیا گیا۔ اس رشتے نے ملت اسلامیہ کے تمام افراد کو ایک جسم کے مختلف اعضاء بنا دیا ہے اور ان کے درمیان، رحم، ہمدردی محبت و شفقت، خیرخواہی اور صلح صفائی کی اعلیٰ صفات پیدا کردی ہیں۔ یہ رشتہ رنگ و خون نسل و زبان کے رشتوں سے بالاتر ہے اور مضبوط بھی ہے۔ غیرمسلموں سے انسانی مساوات کی بنا پر تعلقات ہوسکتے ہیں، رشتے کی بنا پر خونی تعلقات بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن ایک ملت و جماعت کے افراد ہونے کی حیثیت سے دلی اور روحانی تعلق صرف مسلمانوں سے ہی ہوسکتا ہے۔ دراصل یہ تعلق اللہ تعالیٰ کا ایک خاص انعام اور اسلام کا ایک امتیازی نشان ہے۔ اس امتیازی نشان نے دنیابھر کے مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع کردیا ہے اور ہر وہ چیز جو اس عظیم رشتے میں روڑے اٹکائے اسے ناجائز ٹھہرایا ہے۔

اسلامی تمدن کی سب سے بڑی خصوصیت بھائی چارے کا نظریہ ہے۔ قرآنِ حکیم کی رُو سے اخوتِ اسلامی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھنا اور جس پر خدا کا شکر بجالانا ضروری ہے۔ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دنیا میں آنے سے پہلے دنیا رنگ و خون اور نسل وزبان کے تنگ دائروں میں بٹی ہوئی تھی۔ مختلف قبیلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، کینہ، بغض اور عداوت کے باعث ہر وقت جنگ وجدل جاری رہتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو انہوں نے بچھڑے ہوئے دلوں کو آپس میں ملایا، جو لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اب ایک دوسرے کے غمگسار، ہمدرد اور ایک دوسرے کی جان، مال اورعزت و آبرو کے محافظ بن گئے، گویا کل کے دشمن آج کے دوست بن گئے اور اب ایک دوسرے پر جان فدا کرنے لگے۔

اللہ پاک سورہ حجرات آیت نمبر 10 میں ارشاد فرماتاہے:
ترجمہ: مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین فرماتے ہیں :مسلمان توآپس میں بھائی بھائی ہی ہیں کیونکہ یہ آپس میں دینی تعلق اورا سلامی محبت کے ساتھ مَربوط ہیں اوریہ رشتہ تمام دُنْیَوی رشتوں سے مضبوط تر ہے ،لہٰذاجب کبھی دو بھائیوں میں جھگڑا واقع ہو تو ان میں صلح کرادو اور اللہ تعالیٰ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا ایمان والوں کی باہمی محبت اور اُلفت کا سبب ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ا س پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔

اسی طرح اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جاہ بجاہ اپنی امت کو بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔

فرمان آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم’’مسلمان ،مسلمان کابھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسواکرے ،جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مشغول رہتاہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرتاہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تواللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مَصائب میں سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کاپردہ رکھتاہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کاپردہ رکھے گا۔ (بخاری)

ایک اور جگہ فرمایا: سارے مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں ،جب اس کی آنکھ میں تکلیف ہوگی توسارے جسم میں تکلیف ہوگی اور اگراس کے سرمیں دردہوتوسارے جسم میں دردہوگا۔(مسلم)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔(مسلم)

مذکورہ بالا قرآنِ حکیم کے ارشادات اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمودات سے یہ بات واضح ہے کہ اسلامی اخوت کا دائرہ بہت وسیع ہے اور یہ خونی رشتوں سے بالاتر ہے۔ بھائی چارے کا یہ رشتہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں لاتا ہے جس میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی بن جاتا ہے اور معاشرے کا ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے محبت و شفقت ہمدردی، غمگساری، خیرخواہی، ایثار اور قربانی کے نشے میں سرشار نظر آتا ہے۔ یہی اسلامی معاشرہ ہے ایسے معاشرے کی مثال آج تک کوئی قوم بھی پیش نہیں کرسکی اور نہ کرسکے گی۔

نمایاں خبریں