شب برأت ۔۔۔۔ نجات کی رات

جنید شیخ
12 hours ago | دین و دنیا

ماہ شعبان کی پندرہویں رات کوشب برأت کہاجاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اوربرأت کے معنی بری ہونے اورقطع تعلق کرنے کے ہیں ۔ چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لیے اس رات کوشب برأت کہتے ہیں‘ اس رات کو لیلتہ المبارکہ یعنی برکتوں والی رات لیلتہ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلتہ الرحمة رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہاجاتا ہے ۔
قرآن مجید میں اس رات کا تذکرہ ان الفاظ میں آیا ہے کہ:
فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ (سورة الدخان آیت نمبر 4)
اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عہنما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ: ’’اس رات میں لکھ دیا جاتا ہے کہ اس سال میں کتنا رزق دیا جائے گا، کتنے لوگ مریں گے، کتنے لوگ زندہ رہیں گے، کتنی بارشیں ہوں گی حتی کہ لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں شخص حج کرے گا۔‘‘
حضرت عکرمہ رحمة اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک زندگی کی مدتیں منقطع ہوجاتی ہیں، حتی کہ ایک شخص نکاح کرتا ہے اور اس کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا نام مردوں میں لکھا ہوتا ہے۔‘‘
ابوالضحی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو معاملات کے فیصلے فرماتا ہے اور لیلۃ القدر میں ان فیصلوں کو ان کےا صحاب کے سپرد کردیتا ہے۔ اس رات میں ایک سال سے دوسرے سال تک دنیا کے معاملات کی تقسیم کی جاتی ہے۔
‘‘
ان تمام احادیث سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نصف شعبان المعظم کی رات ہی شبِ برأت ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں اس کی رحمت اپنے عروج پر ہوتی ہے اور بنوکلب میں پائی جانے والی بکریوں کی کھالوں پر موجود بالوں کی تعداد کے برابر انسانوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ امور تو پہلے ہی سے لوح محفوظ میں تحریر ہیں پھر ان شب میں ان کے لکھے جانے کا کیامطلب ہے ؟جواب یہ ہے کہ یہ امور بلاشبہ لوح محفوظ میں تحریر ہیں لیکن اس شب میں مذکورہ امور کی فہرست لوح محفوظ سے نقل کر کے ان فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ امور ہیں ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا "کیا تم جانتی ہوکہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ "میں نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ فرمائیے ۔ ارشاد ہوا" آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اوراس رات میں لوگوں کے(سال بھرکے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اوراس میں لوگوں کا مقررہ رزق اتارا جاتا ہے "۔ (مشکوٰۃ جلد 1 صفحہ 277)
شب برأت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس شب میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بے شمار لوگوں کی بخشش فرمادیتا ہے
حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات آجائے تو اس رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کہ رب تعالیٰ غروبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے اور کہتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طلب کرنے والا کہ اسے بخش دوں! ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اسے روزی دوں! ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اسے عافیت بخشوں! ہے کوئی ایسا! ہے کوئی ایسا! اور یہ طلوعِ فجر تک فرماتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1388)
یہ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ شبِ برأت کی اس قدر فضیلت و اہمیت اور برکت و سعادت کے باوجود ہم یہ مقدس رات بھی توہمات اور فضول رسومات کی نذر کر دیتے ہیں اور اس رات میں بھی افراط و تفریط کا شکار ہو کر اسے کھیل کود اور آتش بازی میں گزار دیتے ہیں۔ من حیث القوم آج ہم جس ذلت و رسوائی، بے حسی، بدامنی، خوف و دہشت گردی اور بے برکتی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اس سے چھٹکارے اور نجات کی فقط ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ کہ ساری قوم اجتماعی طور پر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مغفرت طلب کرے اور اس رات کو شبِ توبہ اور شبِ دعا کے طور پر منائے۔
آئیے! اس غفار، رحمن اور رحیم ربّ کی بارگاہ میں ندامت کے آنسو بہائیں اور خلوصِ دل سے توبہ کریں، حسبِ توفیق تلاوت کلام پاک کریں، نوافل پڑھیں۔ استغفار اور دیگر مسنون اَذکار کے ساتھ دلوں کی زمین میں بوئی جانے والی فصل تیار کریں اور پھر اسے آنسوؤں کی نہروں سے سیراب کریں تاکہ رمضان المبارک میں معرفت و محبت الہٰی کی کھیتی اچھی طرح نشوونما پاکر تیار ہوسکے۔ قیام اللیل اور روزوں کی کثرت ہی ہمارے دل کی زمین پر اُگی خود رَو جھاڑیوں کو (جو پورا سال دنیاوی معاملات میں غرق رہنے کی وجہ سے حسد، بغض، لالچ، نفرت، تکبر، خودغرضی، ناشکری اور بے صبری کی شکل میں موجود رہتی ہیں) اکھاڑ سکے گی اور ہمارے دل کے اندر ماہ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں کو سمیٹنے کے لیے قبولیت اور انجذاب کا مادہ پیدا ہو گا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ماہ شعبان المعظم، عظیم ماہ رمضان المبارک کا ابتدائیہ اور مقدمہ ہے، جس میں ہم خود کو بہتر طور پر آنے والے مقدس مہینے کے لیے تیار کرسکتے ہیں۔
نمایاں خبریں