LogoTuesday, February, 3, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

شب برأت انتہائی اہمیت کی حامل رات

شب برأت انتہائی اہمیت کی حامل رات

مولانا شاہد عطاری مدنی

11 hours ago | دین و دنیا

شب برأت انتہائی اہمیت کی حامل رات

اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدتُنا عائشہ صِدِّیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں،میں نے نبیِّ کریم، رء وفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَالتَّسْلِیم کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ عَزَّوَجَلَّ (خاص طور پر)چار راتوں میں بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے: (۱)بَقَر عید کی رات (۲)عیدُ الفِطر کی رات(۳)شعبان کی پندرہویں رات کہ اس رات میں مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رِزق اور (اِس سال)حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں (۴) عَرَفہ کی (یعنی 8اور9 ذُوالحجّہ کی درمیانی) رات اذانِ (فجر) تک۔
)تفسیردُرّ مَنثورج۷ص۴۰۲ دار الفکر بیروت(

پندرہ شَعْبانُ الْمُعَظّم کی رات کتنی نازُک ہے!نہ جانے کس کی قِسْمت میں کیا لکھ دیا جائے! بعض اوقات بندہ غَفْلت میں پڑا رَہ جاتا ہے اور اُس کے بارے میں کچھ کا کچھ ہوچکا ہوتا ہے ۔’’ غُنْیَۃُ الطّالِبِین ‘‘میں ہے: بَہُت سے کَفَن دُھل کر تیّار رکھے ہوتے ہیں مگرکَفَن پہننے والے بازاروں میں گھوم پِھر رہے ہوتے ہیں ، کافی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کی قَبْر یں کُھدی ہوئی تیّار ہوتی ہیں مگر اُن میں دَفْن ہونے والے خوشیوں میں مَسْت ہوتے ہیں، بعض لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں حالانکہ اُن کی موت کا وَقت قریب آچکا ہوتا ہے۔کئی مکانات کی تعمیر ات کا کام پورا ہو گیا ہوتا ہے مگر ساتھ ہی ان کے مالِکان کی زندگی کا وَقت بھی پورا ہوچکا ہوتا ہے۔ ) غُنْیَۃُ الطّا لِبین ج۱ص۳۴۸ (

آگاہ اپنی موت سے کوئی بَشَر نہیں
سامان سو برس کا ہے پَل کی خبر نہیں

حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے رِوایت ہے، حُضُور سراپا نور ، صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:میرے پاس جبرئیل (عَلَیْہِ السّلام) آئے اور کہا یہ شَعبان کی پندرَہویں رات ہے اس میں اللہ تعالیٰ جہنَّم سے اِتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بَنی کَلْب کی بکریوں کے بال ہیں مگرکافِراور عداوت والے اور رِشتہ کاٹنے والے اورکپڑا لٹکانے والے اور والِدَین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نَظَرِ رَحمت نہیں فرماتا۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۸۴ حدیث ۳۸۳۷)

(حدیثِ پاک میں ’’ کپڑا لٹکانے والے‘‘ کا جو بیان ہے، اِس سے مُراد وہ لو گ ہیں جو تکبُّر کے ساتھٹَخنوں کے نیچے تہبند یا پاجامہ وغیرہ لٹکاتے ہیں) کروڑوں حَنبلیوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہنے حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللّٰہ اِبنِ عَمْر و رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے جورِوایَت نَقْل کی اُسمیں قاتِل کا بھی ذِکْر ہے ۔
)مُسندِ اِمام احمد ج۲ص۵۸۹حدیث ۶۶۵۳دار الفکر بیروت(
حضرتِ سَیِّدُنا کثیربن مُرَّہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے رِوایَت ہے ،تاجدارِ رِسالت ، سراپا رَحمت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:شعَزَّوَجَلَّ شَعبان کی پندرَہویں شب میں تمام زمین والوں کو بَخش دیتا ہے سِوائے مشرک اور عداوت والے کے۔
)شُعَبُ الْاِیمان ج۳ ص۳۸۱ حدیث۳۸۳۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت (

امیرُ الْمؤمنین حضرت مولیٰ مشکل کشا، سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ شیرخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں: شَعْبانُ الْمُعَظّم کی پندرھویں رات یعنی شبِ براءت میں اکثر باہَر تشریف لاتے۔ ایک بار اِسی طرح شبِ براءت میں باہَر تشریف لائے اور آسمان کی طرف نَظَر اُٹھا کر فرمایا: ایک مرتبہ ش کے نبی حضرت سیِّدُنا داوٗدعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے شَعبان کی پندرھویں رات آسمان کی طرف نگاہ اُٹھائی اور فرمایا:یہ وہ وقت ہے کہ اس وَقت میں جس شَخص نے جو بھی دُعا شعَزَّوَجَلَّ سے مانگی اُسکی دعا ش اللہ پاک نے قَبول فرمائی اور جس نے مغفِرت طلب کی شعَزَّوَجَلَّ نے اسکی مغفِرت فرمادی بشرطیکہ دُعا کرنے والا عُشَّار (یعنی ظُلْماً ٹیکس لینے والا) ، جادوگر،کاہِن اورباجا بجانے والا نہ ہو،پھر یہ دعا کی شعَزَّوَجَلََّّ ! اے دا وٗد کے پروردگار!جو اِس رات میں تجھ سے دُعا کرے یا مغفِرت طَلَب کرے تو اُس کوبَخش دے۔

(لَطائِفُ الْمَعارِف لابن رجب الحنبلی ج۱ ص۱۳۷باختصار ،دارابن حزم بیروت)
شبِ براءت بے حد اہم رات ہے، کسی صورت سے بھی اسے غفلت میں نہ گزارا جائے، اِس رات خُصوصِیَّت کے ساتھ رَحمتوں کی چَھماچَھم برسات ہوتی ہے۔اِس مُبارَک شب میں اللہ تبارَک وَتعالیٰ ’’بَنی کَلْب ‘ کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو جہنَّم سے آزاد فرماتا ہے۔ کِتابوں میں لکھا ہے: ’’قبیلۂِ بَنی کَلب ‘‘قبائلِ عَرَب میں سب سے زیادہ بکریاں پالتا تھا۔‘‘آہ ! کچھ بدنصیب ایسے بھی ہیں جن پر اِس شبِ بَرَأ ت یعنی چُھٹکارا پانے کی رات بھی نہ بخشے جانے کی وَعید ہے۔

حضرتِ سیِّدُنا امام بَیْہَقِی شافعی علیہ ر حمۃ اللّٰہِ القوی ’’فَضائِلُ الْاَوقات‘‘ میں نَقل کرتے ہیں: رسولِ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:چھ آدمیوں کی اس رات بھی بخشِش نہیں ہوگی: (۱)شراب کا عادی (۲)ماں باپ کا نافرمان(۳) زِناکا عادی (۴)قَطْعِ تعلُّق کرنے والا (۵)تصویر بنانے والا اور(۶)چُغُل خور۔ اِسی طرح کاہِن ،جادوگر،تکبُّر کے ساتھ پاجامہ یا تہبَند ٹَخنوں کے نیچے لٹکانے والے اور کسی مُسلمان سے بُغض و کِینہ رکھنے والے پر بھی اِس رات مغفِرت کی سعادت سے محرومی کی وعید ہے،چُنانچِہ تمام مُسلمانوں کو چاہئے کہ مُتَذَکَّرہ گُناہوں میں سے اگر مَعَاذَ اللّٰہ کسی گُناہ میں مُلَوَّث ہوں تو وہ بالخصوص اُس گناہ سے اور بالعُمُوم ہر گناہ سے شبِ براءت کے آنے سے پہلے بلکہ آج اور ابھی سچّی توبہ کرلیں، اور اگربندوں کی حق تلفیاں کی ہیں توتوبہ کے ساتھ ساتھ ان کی مُعافی تَلافی کی ترکیب فرما لیں ۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان نے اپنے ایک اِرادتمند (یعنی مُعتقِد)کو شبِ برأت سے قبل توبہ اور مُعافی تَلافی کے تعلُّق سے ایک مکتوب شریف ارسال فرمایا جو کہ اُس کی افادیت کے پیشِ نظر حاضِر خدمت ہے چُنانچِہ ’’ کُلِّیاتِ مَکاتیبِ رضا ‘‘ صَفْحَہ356 تا 357پر ہے : شبِ براءت قریب ہے، اِس رات تمام بندوں کے اَعمال حضرتِ عزَّت میں پیش ہوتے ہیں ۔

اللہ عزَّوَجَلَّ بطفیلِ حضُورِ پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ذُنوب (یعنی گناہ )مُعاف فرماتا ہے مگر چند ، ان میں وہ دو مسلمان جو باہَم دُنیوی وجہ سے رَنْجِش رکھتے ہیں، فرماتا ہے : ’’اِن کورہنے دو، جب تک آپَس میں صُلْح نہ کرلیں۔‘‘لہٰذا اہل سنّت کو چاہئے کہ حتَّی الْوَسْع قبلِ غروبِ آفتاب 14 شعبان باہم ایک دوسرے سے صفائی کر لیں ۔ایک دوسرے کے حُقُوق ادا کردیں یا مُعاف کرالیں کہ بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی حُقُوقُ الْعِباد سے صَحَائفِ اَعمال (یعنی اعمال نامے) خالی ہو کر بارگاہِ عزّت میں پیش ہوں۔حُقُوقِ اللہ تعالیٰ کے لئے توبۂ صادِقہ(یعنی سچّی توبہ) کافی ہے۔ (حدیثِ پاک میں ہے:)اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنبَ لَہٗ (یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اُس نے گناہ کیا ہی نہیں(ابن ماجہ حدیث۴۲۵۰))ایسی حالت میں بِاِذْنِہٖ تَعَالٰیضَرور اِس شب میں اُمّیدِ مغفِرتِ تامّہ(تامْ۔مَہْ یعنی مغفرت کی پکّی اُمید) ہے بشرطِ صِحّتِ عقیدہ۔(یعنی عقیدہ درست ہونا شرط ہے)وَہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْم۔(اور وہ گناہ مٹانے والارحمت فرمانے والا ہے) یہ سب مُصالَحَتِ اِخْوان (یعنی بھائیوں میں صُلْح کروانا)ومعافیٔ حُقُوق بِحَمْدِہٖ تعالٰی یہاں سالہائے دراز (یعنی کافی برسوں)سے جاری ہے، اُمّیدہے کہ آپ بھی وہاں کے مسلمانوں میں اس کااِجْرا کرکے(یعنی جو اسلام میں اچّھی راہ نکالے اُس کیلئے اِس کا ثواب ہے اور قِیامت تک جو اس پر عمل کریں ان سب کا ثواب ہمیشہ اسکے نامۂ اعمال میں لکھا جائے بِغیر اس کے کہ اُن کے ثوابوں میں کچھ کمی آئے ) کے مِصداق ہوںاور اِس فقیر کیلئے عَفْو وعافِیَّتِ دارَین کی دُعا فرمائیں۔

فقیر آپ کیلئے دُعا کرتا ہے اوران شاءاللہ کرے گا، سب مسلمانوں کو سمجھادیا جائے کہ وَہاں (یعنی بارگاہِ الہٰی میں)نہ خالی زَبان دیکھی جاتی ہے نہ نِفاق پسند ہے،صُلْح ومُعافی سب سچّے دل سے ہو ۔ وَالسلام ۔ حضرتِ سَیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مَروی ہے کہ نبیِّ کریم، رئُ وْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیم کا فرمانِ عظیم ہے :جب پندَرَہ شعبان کی رات آئے تو اسمیں قِیام (یعنی عبادت)کرو اور دن میں روزہ رکھو۔بے شکش تعالیٰ غُرُوبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلّی فرماتا اور کہتا ہے:’’ہے کوئی مجھ سے مغفِرت طَلَب کرنے والا کہ اُسے بَخْش دوں!ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اُسے روزی دوں!ہے کوئی مُصیبت زدہ کہ اُسے عافِیَّت عطا کروں!ہے کوئی ایسا! ہے کوئی ایسا! اور یہ اُس وَقْت تک فرماتا ہے کہ فَجْرطُلُوع ہو جائے ۔ ‘ ‘
(سُنَنِ اِبن ماجہ ج۲ص۱۶۰حدیث ۱۳۸۸ دارا لمعرفۃ بیروت)

شبِ برأت میں اعمال نامے تبدیل ہوتے ہیں لہٰذا ممکِن ہو تو 14 شَعبانُ الْمُعَظَّم کوبھی روزہ رکھ لیا جائے تاکہ اَعمال نامے کے آخِری دن میں بھی روزہ ہو۔14 شَعبان کوعَصر کی نَمازباجماعت پڑھ کر وَہیں نفلی اعتِکاف کر لیا جائے اور نمازِ مغرب کے انتِظار کی نیّت سے مسجِد ہی میں ٹھہرا جائے تاکہ اعمالنامہ تبدیل ہو نے کے آخِر ی لمحات میں مسجِد کی حاضِری، اعتِکاف اور انتِظارِ نماز وغیرہ کا ثواب لکھا جائے ۔ بلکہ زہے نصیب !ساری ہی رات عبادت میں گزاری جائے۔

اَمیرُ المُؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعُمر بن عبد العزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایک مرتبہ شعبانُ المُعَظَّم کی پندرہویں رات یعنی شبِ براءت عبادت میں مصروف تھے۔ سراُٹھایا تو ایک ’’سبز پرچہ‘‘ملا جس کا نُور آسمان تک پھیلا ہواتھا،اُس پر لکھا تھا،’’ہٰذہٖ بَرَاء ۃٌ مِّنَ النَّارِ مِنَ الْمَلِکِ الْعَزِیْزِ لِعَبْدِہٖ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ‘‘ یعنی خدائے مالِک وغالِب کی طرف سے یہ ’’جہنَّم کی آگ سے آزادی کا پروانہ‘‘ہے جو اُس کے بندے عمر بن عبد العزیز کو عطا ہوا ہے۔
(تفسیر روح البیان ج۸ص۴۰۲)

نمایاں خبریں