معراج مصطفٰےﷺ اور قرآن

ابن استطاعت مرزا
15-Jan-2026 | دین و دنیا

ہیں صَف آرا سب حُور و مَلَک اور غِلماں خُلد سجاتے ہیں
اِک دھوم ہے عرشِ اعظم پر مہمان خدا کے آتے ہیں
ہے آج فلک روشن روشن، ہیں تارے بھی جگمگ جگمگ
محبوب خدا کے آتے ہیں محبوب خدا کے آتے ہیں
ہے خُوب فَضا مہکی مہکی چلتی ہے ہوا ٹھنڈی ٹھنڈی
ہر سَمت سماں ہے نُورانی معراج کو دولہا جاتے ہیں
یہ عزّ و کمال اللہ اللہ! یہ اَوج و کمال اللہ اللہ
یہ حُسن و جمال اللہ اللہ! معراج کو دولہا جاتے ہیں
بِعثَت کے گیارھویں سال ، 27 رَجَبُ المُرَجَّب کی رات محبوبِ ربُّ العلٰی ، امامُ الانبیاء صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ اپنی چچازاد بہن حضرت اُمِّ ہانی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کے گھر آرام فرما تھے کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حاضر ہوئے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کووہاں سے مسجد حرام لاکر حطیمِ کعبہ میں لِٹا دیا ، سینۂ اقدس چاک کرکے قلبِ اطہر باہر نکالا ، آبِِ زم زم شریف سے غسل دیا اور ایمان و حکمت سے بھر کر واپس اُسی جگہ رکھ دیا۔ اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں ایک سواری پیش کی گئی جس کانام بُراق تھا۔ حضور سیدِ عالَم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ اس پر سوار ہو کر بیت المقدس روانہ ہوئے ، راستے میں عجائبات ِ قدرت کا مشاہدہ کرتے ہوئے بیت المقدس تشریف لے آئے جہاں مسجدِ اَقصی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی شانِ عالی کے اظہار کیلئے تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جمع تھے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امامت فرمائی ، پھر مسجدِاَقصیٰ سے آسمانوں کی طرف سفر شروع ہوا۔ آسمانوں کے دروازے آپ کے لئے کھولے جاتے رہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ وَالسَّلَام سے ملاقات فرماتے ہوئے ساتویں آسمان پر سِدْرَۃُ المُنْتَہیٰ کے پاس تشریف لائے۔ جب آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سِدْرَۃُ المُنْتَہیٰ سے آگے بڑھے تو حضرت جبریل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہیں ٹھہر گئے اور آگے جانے سے معذرت خواہ ہوئے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ آگے بڑھے اور بلندی کی طرف سفر فرماتے ہوئے مقام ِمُستویٰ پر تشریف لائے پھر یہاں سے آگے بڑھے تو عرش آیا ، آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ اس سے بھی آگے لامکاں تشریف لائے جہاں اللّٰہ ربُّ العزّت نے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کو وہ قُرْبِ خاص عطا فرمایا کہ نہ کسی کو ملا ، نہ ملےگا۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے بیداری کے عالَم میں سر کی آنکھوں سے اللّٰہ عَزَّوَجَلّ کا دیدار کیا اور بے واسطہ کلام کا شَرَف بھی حاصل کیا ۔ اس موقع پر نماز فرض کی گئی۔ اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سِدْرَۃُ المُنْتَہیٰ پر تشریف لائے ، یہاں سے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کو جنّت میں لایا گیا ، جنّت کی سیر کے دوران نہرِ کوثر کو بھی ملاحظہ فرمایا۔ اس کے بعدجَہَنَّم کا مُعایَنہ کروایا گیا ، بعد ازاں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ واپس سِدْرَۃُ المُنْتَہیٰ تشریف لائے جس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ (فیضانِ معراج ، ص : 13تا41 ، ملتقطاً)
اور کوئی غیب کیا ، تم سے نِہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا ، تم پہ کروڑوں درود
پہلا مقام
قرآن پاک سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 1 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والاہے۔
عمومی طور پر سفر نامہ میں نو چیز میں بیان کی جاتی ہیں (1) سفر کس نےکرایا (2) سفر کس نے کیا (3) سفر دن میں ہوایا رات میں (4) سفرکتنی دیر میں ہوا ( 5 ) سفر کا آغاز کہاں سے ہوا (6) سفر کس طرف کیا گیا (7) جس طرف کیا گیا اس جگہ کی خصوصیت (8) سفرکس لیے کیا (9) سفر ضرورت کی وجہ سے تھا یا صرف سیر تھی۔ اللہ تبارک وتعالی نے انتہائی جامعیت کے ساتھ ان نو چیزوں کا بیان اس ایک
آیت پاک میں فرمادیا ۔ سفر کس نے کرایا؟ فرمایا: سبحان نے ،سفر کس نے کیا ؟ فرمایا بعبدہ اس کے بندو خاص نے، سفر دن میں ہوا یارات میں فرمایا: اسری رات کو سفر کرایا ،سفر کتنی دیر میں ہوا ،فرمایا لیلارات کے تھوڑے سے حصے میں، سفر کا آغاز کہاں سے ہوا ،فرمایا: من المسجد الحرام مسجد حرام سے، سفر کس طرف ہوا؟ فرمایا الى المسجد الاقصی مسجد اقصی کی طرف، مسجد اقصی کی خصوصیت ؟ فرمایا الذي باركنا حولہ جس کے اردگردہم نے برکت رکھی ہے ،سفر کس لیے کیا ؟ فرمایا: لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا تا کہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ۔ سفر تھا یا سیر؟ فرمایا: اسری رات کو سیر کے لیے لے گیا ۔
" سُبْحٰنَ" سے آغاز کی حکمتیں
پیارےاسلامی بھائیو! اللہ پاک نے اس عَظیم واقعہ کے بیان کولَفْظِ سُبحان سے شُروع فرمایا جس سے مُراد اللہ پاک کی تَنْزِیْہ (یعنی پاکی ) اور ذات ِباری تعالیٰ کا ہر عیب ونقص سے پاک ہونا ہے ۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ واقعاتِ مِعْراج جسمانی کی بنا پرمُنکرین کی طرف سے جس قدر اِعتراضات ہوسکتے تھے ان سب کا جواب ہوجائے ۔ مثلاً حُضُور نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا جسمِ اَقدس کے ساتھ بَیْتُ الْمَقْدِس یا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور وہاں سے’’ ثُم دَنٰی فَتَدَ لّٰی‘‘ کی منزل تک پہنچ کر تھوڑی دیر میں واپس تشریف لے آنا منکرین کے نزدیک نامُمْکن او ر محال تھا ۔اللّٰہ پاک نے لَفْظِ سُبحان فرما کریہ ظاہر فرمادیا کہ یہ تمام کام میرے لئے بھی نامُمکن اور محال ہوں تویہ میری عاجزی اور کمزوری ہوگی ۔ اور عِجز وضُعف ،عیب ہے اورمیں ہر عیب سے پاک ہوں ۔ اسی حکمت کی بناپراللّٰہ پاک نے اَسْریٰ فرمایا جس کا فاعل اللّٰہ پاک ہے حُضُورکو جانے والا نہیں فرمایا بلکہ اپنی ذاتِ مُقدَّسہ کو لے جانے والا فرمایا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ اللّٰہ پاک نے لفظ ِسُبحان اور اَسْریٰ فرماکرمِعْراجِ جسمانی پر ہونے والے ہر اعتراض کا جواب دیا ہے اور اپنے محبوب عَلَیْہِ السَّلام کی ذاتِ مُقدَّسہ کو اِعتراضات سے بچایا ہے ۔ (مقالات کاظمی،حصہ اول،ص۱۲۳)
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے :انتہائی قلیل وقت میں اتنی عظیم الشان سیر کراکے واپس لے آناعادۃ محال ہے مخلوق کے لیے تو یہ ناممکن ہے، اگر خالق کے لیے بھی یہ ناممکن ہوتو یہ عیب اورنقص ہوگا ، اور اللہ تعالی کی ذات سبحان یعنی ہر عیب ونقص سے پاک ہے،اس لیے ابتداء میں لفظ سبحان لاکر معراج کو ثابت فرمایا گیا ہے کہ جو سیر کے لیے لے کر جانے والی ذات ہے وہ لے جانے پر قادر ہے، عجز کے عیب سے پاک ہے۔عمدة القاری میں ہے :
والمعنى أسبح الله الذي أسرى بعبده أي أنزهه من جميع النقائص والعيوب “(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ،ج17،ص19)
سبحن الذي اسری “ کا معنی یہ ہے کہ وہ ذات ہر عیب ونقص سے پاک ہے جس نے اپنے بندے کو معراج کرائی۔
(2) عرب لوگ عام طور پر تعجب خیز بات کے شروع میں تسبیح کرتے ہیں ، یہ ایک تعجب خیز بات تھی کہ اتنا لمبا سفر کر کے آن کی آن میں واپس تشریف لے آئے ، اس لیے محاورہ عرب کے مطابق ابتداء میں تسبیح کو لایا گیا۔
تفسیر روح البیان میں ہے :کلمۃ سبحان للتعجب بها يشير الى اعجب امر من أموره تعالى جر ی بینہ بین حبیبه “
سبحان کا کلمہ تعجب کے لئے ہے اس کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ امور الہیہ میں سے یہ معاملہ جو اللہ تعالی اور اس کے محبوب ﷺ کے درمیان واقع ہوا ہے یہ نہایت تعجب خیز ہے ۔(تفسیر روح البیان ،ج5،ص102)
" اَسْرٰى "کی حکمتیں
اَسْرٰى کے معنی ہیں کسی کو رات کے وقت بیداری میں لے جا نا“ اگر کسی کو خواب میں کوئی لے جائے تو اسے لغت عرب میں اَسْرٰى نہیں کہتے، تو اَسْرٰى ارشادفرمانے سے یہ معلوم ہوا کہ معراج خواب کی حالت میں نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں ہوئی ۔
علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس بات کا رد فرماتا ہے کہ یہ سیر نیند کی حالت میں تھی تو سیر نیند میں کی جائے تو اسے اَسْرٰى سے تعبیر نہیں کرتے ۔(تفسیر قرطبی،ج10،ص209)
قرآن مجید میں حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں ہے، وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا » اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا (سورة الاعراف ،آیت 143)
اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہے وَقَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ اور ابراہیم نے کہا: بیشک میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں ،اب وہ مجھے راہ دکھائے گا۔ (سورة الصافات، آیت 99)
اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بارے میں فرمایا سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندو خاص کو راتوں رات سیر کے لیے لے کر گئی ۔ (سورة الاسراء )
یعنی حضرت موسی علیہ السلام خود آئے ،حضرت ابراہیم علیہ السلام خو د گئے ،جبکہ مصطفی جان رحمتﷺ کو ان کا رب خود لے کر جانے والا ہے امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ دونوں صورتوں میں موازنہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں
نہ عرشِ ایمن نہ اِنِّیْ ذَاھِبٌ میں میہمانی ہے
نہ لطف اُدْنُ یَا اَحْمَدنصیب لَنْ تَرَانِیہے
اَسْرٰى سے پتا چلا کہ یہ سفر نہیں بلکہ سیر تھی سفرمیں تو بعض اوقات مجبورا کیا جا تا ہے جبکہ سیر خوشی سے کی جاتی ہے اور سفر میں ضروری نہیں کہ دوران سفر ہر چیز دیکھی جائے جبکہ سیر میں توجہ پوری حاضر رہتی ہے،اس لیے پیش آنے والے واقعات چاہے وہ راستے میں پیش آئے ہوں یا مسجد اقصی میں ،آسمانوں پر پیش آئے ہوں یا سدرۃ المنتہی پر عرش پر پیش آئے ہوں یا لا مکان میں نبی پاک ﷺبغور ان کا مشاہد ہ فرماتے رہے ۔
"عَبْدَہ" کی حکمتیں
عبد کا اطلاق روح مع الجسد پر ہوتا ہے،صرف روح پر نہیں ہوتا،اللہ تعالی نے عبدفرما کر یہ بیان کر دیا کہ معراج جاگتے ہوئے ہوئی ، نہ کہ سوتے ہوئے۔
علامہ قرطبی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولو كان مناما لقال بروح عبده ولم يقل بعبده ‘‘اگر معراج نیند کی حالت میں ہوتی تو اللہ تعالی بعبدہ کی بجائے بروح عبدہ فرماتا ۔ (تفسير القرطبی، ج 10،ص208)
عبدفرما کر یہ بھی بیان فرما دیا کہ معراج روحانی نہیں بلکہ جسمانی تھی" سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا الخ" اس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ خازن، جلالین اور حاشیہ صاوی میں ہے:”والحق الذی علیہ اکثر الناس ومعظم السلف و عامۃ الخلف من المتأخرین من الفقھاء والمحدثین والمتکلمین انہ اسری بروحہ وجسدہ صلی اللہ علیہ وسلم، ویدل علیہ قولہ سبحانہ وتعالیٰ( سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ) و لفظ العبد عبارۃ عن مجموع الروح والجسد، والحدیث الصحیحۃ التی تقدمت تدل علی صحۃ ھذا القول‘‘ترجمہ: حق وہی ہے جس پر کثیر لوگ، اکابر علماء اور متأخرین میں سے عام فقہاء، محدثین اور متکلمین ہیں کہ حضور علیہ السَّلام نے جسم اور روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی، اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے: پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا، کیونکہ لفظ عبد روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا نام ہے، یونہی ( ماقبل) ذکر کردہ حدیث صحیح بھی اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔(تفسیرخازن،پ15،تحت الآیۃ:1 ،ج3،ص158)
نسیم الریاض میں ہے: ’’(انہ اسراء بالجسد والروح فی القصۃ کلھا) ای فی قصۃ الاسراء الی المسجد الاقصی والسموات، (وعلیہ تدل الآیۃ) الدالۃ علی شطرھا صریحاً (وصحیح الاخبار) المشھورۃ المستفیضۃ الدالۃ علی عروجہ صلی اللہ علیہ وسلم الی السماء، والاحادیث الاحاد الدالۃ علی دخولہ الجنۃ ووصولہ الی العرش او طرف العالم وکل ذلک بجسدہ یقظۃ‘‘
ترجمہ: نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے پورے واقعۂ معراج میں یعنی مسجدِ اقصی سے آسمانوں تک جسم و روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی، جس کے ایک حصے پہ آیتِ کریمہ واضح طور پہ دلالت کرتی ہے اور آسمانوں تک کی سیر پر حدیثِ مشہور مستفیض دلالت کرتی ہے، نیز جنّت میں داخل ہونے، عرش پہ جانے یا عالَم کے اس کنارے جانے پہ خبرِ واحد دلالت کرتی ہے، اور یہ سب بیداری میں جسمِ مبارک کے ساتھ تھا۔(نسیم الریاض،ج3،ص103)
عبد کہنے میں عیسائیوں کا رد بھی ہے کہ محمد مصطفی ﷺ اتنی ذیادہ بلندیوں تک پہنچنے کے باوجود عبد ہیں تو حضرت عیسی علیہ السلام اس سے کم بلندی تک پہنچنے سے خدا کیسے ہوگئے ؟
حضور ﷺ نے خود اس کا مطالبہ کیا ۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے والد شیخ امام عمر بن حسین فرماتے ہیں: میں نے شیخ امام ابوالقاسم سلیمان انصاری کو فرماتے سنا: جب محمد َکے درجات عالیہ اور مراتب رفیعہ تک پہنچے تو اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی اے میرے محبوب! میں تمہیں کس لقب سے مشرف کروں عرض کیا : اے میرے رب! مجھے اپنی طرف عبودیت کے ساتھ موصوف فرما مجھے یعنی اپنا بندہ فرمادے،تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی «سبحان الذي أسرى بعبده –(تفسیر کبیر، ج20، ص292)
اضافت کی حکمتیں
صرف عبد(بندہ) نہیں کہا بلکہ عبدہ(اپنے بندہ خاص ) دنیا میں بندے بے شمار ہیں مگر کامل وہ ہے جسے اس کا مالک کہے کہ یہ میرا بندہ ہے ۔
اللہ پاک نبی کریم ﷺ کاذکر فرماتا ہے تو اپنی طرف اضافت کرکے فرماتا ہے :قرآن پاک میں فرمایا :
فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى (پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی)
ایک مقام پر ہے : اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ(کیا اللہ اپنے بندوں کو کافی نہیں)
ایک مقام پر ہے :تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ(اللہ ) بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پرقرآن نازل فرمایا)
علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر میں ایک قول یہ نقل کیا :اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ہر ایک قبلہ ہے ،مقربین کا قبلہ عرش ہے ،روحانیین کا قبلہ کرسی ہے ،کروبیین کا قبلہ بیت المعمور ہے ،آپ سے پہلے انبیائے کرام کا قبلہ بیت االمقدس ہے اور آپ کا قبلہ کعبہ ہے اور یہ آپ کے جسم کا قبلہ ہے جبکہ آپ کی روح کا قبلہ میری ذات ہے اور میرا قبلہ آپ ہیں ۔(تفسیر روح المعانی ،سورہ بقرۃ،ج1،ص413)
قبلہ توجہ کے مرکز کو کہتے ہیں یعنی آپ کی روح میری طرف متوجہ رہتی ہے اور میری توجہ کا مرکز آپ ہیں اس لئے اللہ پاک جب آپ کا ذکر فرماتا ہے تو اپنی طرف اضافت فرماتا ہے اور جب اپنا ذکر کرتا ہے تو آپ کی طرف اضافت فرماتا ہے ۔
" لَیْلًا "کی حکمتیں
’’ لَیْلًا کونکر ہ لا نا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ معراج کا وقت قلیل ہے ۔
علامہ فخرالدین رازی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’ أراد بقوله: ليلا بلفظ التنكير تقليل مدة الإسراء ‘‘ تر جمہ: باری تعالی نے’’لیلا‘‘ نکرہ لا کر معراج کی مدت کی قلت کا ارادہ فرمایا ہے ۔(تفسير كبير، ج 20، ص291،داراحياء التراث العربی،بیروت)
علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’لافادة تقليل مدة الاسراء في جزء من الليل لما في التنكير من الدلالة على البعضية “ترجمہ:لیلا کالفظ معراج کی مدت کی قلت کا فائدہ دے رہا ہے یعنی رات کے ایک جز ء میں کیونکہ نکرہ میں بعضیت پر دلالت ہوتی ہے ۔ (تفسیر روح البیان، ج5، ص103 ،دارالفکر، بیروت)
عرب جب " لَیْلًا " کہتے ہیں تو اس سے پوری رات مراد ہے ہیں ، اس لیے لیلۃ کے بجائے’’ لَیْلًا ‘‘فرمایا تا کہ معلوم ہو کہ پوری رات کی سیر نہ تھی بلکہ رات کے کچھ حصے میں تھی ۔
عمد ۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے :یقال ھو إشارة إلى أن ذلك وقع في بعض الليل لا في جميعه والعرب تقول أسرى فلان ليلا إذا سار بعضہ واسرى ليلة إذا سار جمیعہ ‘‘ ترجمہ: کہا گیا ہے کہ ’’لیلا‘‘ سے اس طرف اشارہ ہے کہ معراج رات کے بعض حصے میں ہوئی ،تمام رات میں نہ ہوئی ،عرب" اسرى فلان لیلا ‘‘اس وقت کہتے ہیں جب سیر رات کے کچھ حصے میں ہو ، اور "اسری لیلۃ‘‘ اس وقت بولتے ہیں جب سیر پوری رات ہو ۔ (عمدة القاری، باب حديث الاسراء ، ج 17، ص19 )
رات کو معراج کروانے کی حکمتیں
علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو رات میں معراج ہونا نص سے ثابت ہے ،سوال یہ ہے کہ رات کو معراج کروانے میں حکمت کیا تھی ؟اس کا جواب کئی وجوہ سے دیا گیا ہے :
الأول: أَنه وَقت الْخلْوَة والاختصاص ومجالسة الْمُلُوك، وَهُوَ أشرف من مجالستهم نَهَارا، وَهُوَ وَقت مُنَاجَاة الْأَحِبَّة
ایک وجہ یہ ہے کہ رات کے وقت خلوت ،اختصاص اور بادشاہوں کے دربار کے وقت ہے یہ وقت دن کی بہ نسبت مجلس لگانے میں ذیادہ عزت والا ہے ،یہ محبوبوں کی مناجات کا وقت ہے۔
الثَّانِي: أَن تعالى أكْرم جمَاعَة من أنبيائه بأنواع الكرامات لَيْلًا، قَالَ تَعَالَى فِي قصَّة إِبْرَاهِيم عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام {فَلَمَّا جن عَلَيْهِ اللَّيْل رأى كوكباً} (الْأَنْعَام: 67) وَفِي قصَّة لوط، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، {فَأسر بأهلك بِقطع من اللَّيْل} (هود: 18، وَالْحجر: 56) وَفِي قصَّة يَعْقُوب، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام: {سَوف اسْتغْفر لكم رَبِّي} (يُوسُف: 89) وَكَانَ آخر دُعَائِهِ وَقت السحر من لَيْلَة الْجُمُعَة، وَقرب مُوسَى نجياً لَيْلًا، وَذَلِكَ تَعَالَى: {إِذْ قَالَ لأَهله امكثوا إِنِّي آنست نَارا} (طه: 01، والقصص: 92) وَقَالَ: {وواعدنا مُوسَى ثَلَاثِينَ لَيْلَة} (الْأَعْرَاف: 241) . وَقَالَ لَهُ لما أمره بِخُرُوجِهِ من مصر ببني إِسْرَائِيل: {فَأسر بعبادي لَيْلًا إِنَّكُم متبعون} (الدُّخان: 32) . وَأكْرم نَبينَا أَيْضا لَيْلًا بِأُمُور مِنْهَا: انْشِقَاق الْقَمَر، وإيمان الْجِنّ بِهِ، وَرَأى الصَّحَابَة آثَار نيرانهم كَمَا ثَبت فِي (صَحِيح مُسلم) وَخرج إِلَى الْغَار لَيْلًا.
دوسری وجہ یہ کہ اللہ تعالی نے انبیاء میں سے انبیاء کی ایک جماعت کورات کے وقت کئی طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے قصہ کے بارے میں فرمایا فَلَمَّا جن عَلَيْهِ اللَّيْل رأى كوكباً ( پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا ایک تارا دیکھا ) لوط علیہ اسلام ان کے بارے میں فرمایا فَأسر بأهلك بِقطع من اللَّيْل ( تو آپ رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے چلیں )۔اور ہمارے نبی ﷺ کو بھی رات میں کئی وجہ سے مکرم کیا ان میں سے بعض یہ ہیں رات کو چاند کا ٹکڑے ہونا ، جن بھی حضوراکرم ﷺپر رات کو ایمان لائے اور صحابہ نے ان کی روشنی کو دیکھا ،اور حضور اکرم ﷺ رات کو ہی غار ثور میں تشریف لے کر گئے۔
الثَّالِث: أَن تعالى قدم ذكر اللَّيْل على النَّهَار فِي غير مَا آيَة فَقَالَ: {وَجَعَلنَا اللَّيْل وَالنَّهَار آيَتَيْنِ} (الْإِسْرَاء: 21) وَقَالَ: {وَلَا اللَّيْل سَابق النَّهَار} (يس: 04) وَلَيْلَة النَّحْر تغني عَن الْوُقُوف نَهَارا.
تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے متعدد آیات میں رات کو دن پر مقدم فرمایا ہے :فرماتا ہے : وَجَعَلنَا اللَّيْل وَالنَّهَار آيَتَيْنِ(ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے ) اور فرمایا : وَلَا اللَّيْل سَابق النَّهَار( اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے ) قربانی کی ر ات دن کے وقوف سے بے پرواہ کردیتی ہے ۔
الرَّابِع: أَن اللَّيْل أصل، وَلِهَذَا كَانَ أول الشُّهُور، وسواده يجمع ضوء الْبَصَر وَيحد كليل النّظر ويستلذ فِيهِ بالسمر ويجتلى فِيهِ وَجه الْقَمَر
چوتھی وجہ یہ ہے کہ رات اصل ہے اس لئے مہینے کی ابتدا رات سے ہوتی ہے رات کی سیائی آنکھ کی روشنی جمع کرتی ہے ،رات میں آنکھ کی روشنی تیز ہوتی ہے رات میں قصہ گوئی کے ذریعے لذت حاصل کی جاتی ہے اور رات کو چاند کا چہرہ چمکتا ہے ۔
الْخَامِس: أَنه لَا ليل إلاَّ وَمَعَهُ نَهَار، وَقد يكون نَهَار بِلَا ليل، وَهُوَ: يَوْم الْقِيَامَة الَّذِي مِقْدَاره خمسين ألف سنة
پانچویں وجہ ہر رات کے ساتھ دن تو ہوتا ہے لیکن دن کبھی بغیر رات بھی ہوتا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے جو 50 ہزار سال پر مشتمل ہے
السَّادِس: أَن اللَّيْل مَحل استجابة الدُّعَاء والغفران وَالعطَاء. فَإِن قلت: ورد فِي الحَدِيث: (خير يَوْم طلعت عَلَيْهِ الشَّمْس يَوْم عَرَفَة، أَو يَوْم الْجُمُعَة) قلت: قَالُوا ذَلِك بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْأَيَّام. قلت: لَيْلَة الْقدر خير من ألف شهر، وَقد دخل فِي هَذِه اللَّيْلَة أَرْبَعَة آلَاف جُمُعَة بِالْحِسَابِ الْجملِي، فَتَأمل هَذَا الْفضل الْخَفي
چھٹی وجہ یہ ہے کہ رات کا وقت دعا کی قبولیت کا وقت ،مغفرت اور عطائے الہی کا وقت ہے اگر تو کہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ دنوں میں سے بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ عرفہ کا دن ہے تو یہاں دن کی فضیلت بیان کی جارہی ہے میں کہتا ہوں علماء فرماتے ہیں یہ دنوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے فضیلت بیان کی ہے ،میں کہتا ہوں لیلۃ القدر ہزار راتوں سے افضل ہے جملی حساب سے اس رات میں چار ہزار جمعہ داخل ہوگئے پس غور کر یہ ایک خفی فضل ہے ۔
السَّابِع: أَن أَكثر أَسْفَاره كَانَ لَيْلًا، وَقَالَ: (عَلَيْكُم بالدلجة فَإِن الأَرْض تطوى بِاللَّيْلِ) .
ساتویں وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اکثر رات کو سفر فرمایا کرتے تھے اور فرمایا :رات کی سیاہی کو لازم رکھو کیونکہ رات کو زمین لپیٹ دی جاتی ہے ۔
وَالثَّامِن: لينفي عَنهُ مَا ادَّعَتْهُ النَّصَارَى فِي عِيسَى، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، من الْبُنُوَّة لما رفع نَهَارا تَعَالَى اعن ذَلِك.
آٹھویں وجہ یہ ہے کہ تاکہ حضور اکرم ﷺ سے اس بات کی نفی ہوجائے جس کا نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں خدا کا بیٹا ہونے کا دعوی کیا تھا جب ان کو آسمان میں دن کو اٹھا لیا گیا تھا ۔
التَّاسِع: لِأَن اللَّيْل وَقت الِاجْتِهَاد لِلْعِبَادَةِ، وَكَانَ قَامَ حَتَّى تورمت قدماه. وَكَانَ قيام اللَّيْل فِي حَقه وَاجِبا وَقَالَ فِي حَقه: {يَا أَيهَا المزمل قُم اللَّيْل إلاّ قَلِيلا} (المزمل: 1 2) فَلَمَّا كَانَت عِبَادَته لَيْلًا أَكثر أكْرم بالإسراء فِيهِ، وَأمره بقوله: {وَمن اللَّيْل فتهجد بِهِ} (الْإِسْرَاء: 97) .
نویں وجہ یہ ہے کہ رات کا وقت ذیادہ عبادت کرنے کا ہے آپ ﷺ رات کو اس قدر قیام فرماتے تھے کہ آپ ﷺ کے پائے مبارک میں ورم آگیا اور اللہ پاک نے فرمایا يَا أَيهَا المزمل قُم اللَّيْل إلاّ قَلِيلا(اے چادر اوڑھنے والے رات کو قیام کریں مگر تھوڑا)پس جب آپ ﷺ رات کو اکثر عبادت کیا کرتے تھے تو اسی وجہ سے رات کو معراج سے مکرم فرمایا اور اللہ پاک نے ارشاد فرمایا وَمن اللَّيْل فتهجد بِهِ(رات کے کچھ حصے میں آپ تہجد پڑھیں )۔
الْعَاشِر: ليَكُون أجر الْمُصدق بِهِ أَكثر، ليدْخل فِيمَن آمن بِالْغَيْبِ دون من عاينه نَهَارا.
دسویں وجہ یہ ہے کہ تاکہ اس واقعے کی تصدیق کرنے والے کا اجر بڑھ جائے اور اس میں داخل ہوجائے جو دن کو معاینہ کرنے کی بجائے غیب پر ایمان لایا ۔(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری،ج4،ص50)
مسجد اقصی تک معراج کی حکمتیں
معراج کی رات حضور ﷺ کو ابتداء ہی سے آسمانوں پر کیوں نہیں لے جایا گیا، پہلے مسجد اقصی کیوں لے جایا گیا ؟ اس کی متعددحکمتیں علماء نے بیان کی ہیں ،جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
اس بابرکت رات میں نبی پاک ﷺ دینے کے لیے دونوں ہی قبلوں کی رؤیت اکٹھی ہو جائے۔ لیجمع ﷺ في تلك الليلة بين رؤية القبلتین" ترجمہ: تا کہ نبی کریم ﷺ کے لیے اس رات میں دو قبلوں کی رؤیت جمع ہو جائے ۔(عمدة القاری ، ج 17، ص 19)
لأن بيت المقدس كان هجرة غالب الأنبياء قبله فرحل إليه لیجمع بين أشتات الفضائل " ترجمہ: چونکہ بیت المقدس آپ ﷺ سے پہلے اکثر انبیاء کی ہجرت گاہ ہے لہذا آپ ﷺ نے اس کی طرف سفر فرمایا تا کہ دیگر فضائل کی طرح کی فضیات بھی آپ میں جمع ہو جائے ۔(عمدہ القاری، باب الاسراء.. 17 ، ص 19)
لانه محل المحشر وغالب ما اتفق له في تلك الليلة يناسب الأحوال الأخروية ‘‘ ترجمہ محشر اس زمین پر بر پا ہوگا ، اور اس رات جو معاملات پیش آئے اکثر احوال اخرویہ کے مناسب ہیں ،لہذا آپ کا سفر ابتدا بیت المقدس کی طرف ہوا۔
مسجد اقصی کے سب ستونوں نے حضور ﷺ زیارت کی دعا کی تھی ،اسی وجہ سے پہلے مسجد اقصی تشریف لے کر گئے ۔
تفسیر روح معانی میں ہے: ان أسطوانات المسجد قالت ربنا حصل لنا من كل نبي حظ وقد اشتقنا إلى محمد ﷺ فارزقنا لقاءه فبدىء بالإسراء به إلى المسجد تعجيلا لاجابة ‘‘ ترجمہ: مسجد اقصی کے تمام ستونوں نے دعا کی ہمیں ہر نبی کی برکت سے حصہ ملا ہے، ہمیں محمد مصطفی ﷺ کی زیارت کا شوق ہے ، اے اللہ! ہمیں ان کی زیارت سے مشرف فرما۔ ان ستونوں کی دعا کی قبولیت میں تعجیل کی وجہ سے معراج کا آغاز مسجد اقصی سے ہوا۔(تفسیر روح المعاني ، ج 8، ص 14 )
تفسیر روح المعاني میں ہے اس میں یہ حکمت تھی یہ سب پر ظاہر ہوجائے کہ آپ سب کے امام ہیں ۔( تفسیر روح المعاني،ج8،ص13)
" الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ "کی حکمتیں
اس کا نام مبارک رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ کہ یہ انبیاء کا مسکن ، ملائکہ اور وحی اترنے کی جگہ ہے
قال مجاھدا:سماہ مبارکا لانہ مقر الانبیاء و مھبط الملائکۃ والوحی،ومنہ یحشر الناس یوم القیامۃ
اس کا نام مبارک ا س وجہ سے رکھا کہ یہ انبیائے کرام کا مسکن ،ملائکہ اور وحی اترنی کی جگہ ہے اور قیامت کے دن اسی جگہ لوگوں کا حشر ہوگا ۔(شرح البخاری للسفیری،المجلس الحادی،ج1،ص254)
اس کا نام مبارک اس برکت کی وجہ سے رکھا جو اس سے پیدا ہوتی ہے اور تمام زمینوں کو عام ہوتی ہے کیونکہ تمام زمینوں کا پانی وہاں نیچے سے جاری ہوتا ہے :"سماہ مبارکا من برکۃ نشات منہ فعمت جمیع الارض،لان میاہ الارض کلھا انفجارھا کان من تحت الصخرۃ "(شرح البخاری للسفیری،المجلس الحادی،ج1،ص254)
ایک نماز پڑھیں تو ایک ہزار نمازوں کا ثواب ملتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
أرضُ المحشرِ وأرضُ المنشرِ ائْتُوهُ فصلُّوا فيه فإنَّ صلاةً فيه كأَلْفِ صلاةٍ (سنن ابن ماجہ ،ج1،ص 451)
دجال اس میں داخل نہیں ہوسکے گا حدیث پاک میں ہے
وَإِنَّهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ فِيهَا كُلَّ مَنْهَلٍ وَلَا يَقْرَبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ: مَسْجِدَ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ، وَمَسْجِدَ الطُّورِ، وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى۔
جو اس کی زیارت کرے گا اللہ پاک اس کی خطاؤں کو مٹاتا ہے اور جو اس میں نماز پڑھے اس کے گناہوں کا مٹاتا ہے ۔(ان من زارہ حط اللہ عنہ اوزارہ،ومن صلی فیہ کفر اللہ عنہ ذنوبہ) جو اس کی زیارت کرے اللہ پاک اس کی خطاؤں کو مٹاتا ہے اور جو اس میں نماز پٹھے گا اس کے گناہوں کو مٹائے گا ۔(شرح البخاری للسفیری ،ج1،ص254)
"لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا "کی حکمتیں
علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں :بے شک اس رات نبی کریم ﷺ نے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا، انہیں نماز پڑھائی اور بڑی عظیم نشانیاں دیکھیں ۔ مزید فرماتے ہیں : اس آیت میں’’مِنْ اٰیٰتِنَا‘‘ کے الفاظ ہیں ،جن کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نشانیاں دکھائیں جبکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘‘اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں ۔( انعام:۷۵) اس آیت کے ظاہر سے ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سیّد المرسَلین ﷺ پر فضیلت حاصل ہے ، حالانکہ ایسا نہیں اور نہ ہی کوئی ان کی نبی کریم ﷺ پراِس اعتبار سے فضیلت کا قائل ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت بھی اللہ تعالیٰ کی (تمام نہیں بلکہ)بعض ہی نشانیاں ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی(دوسری) نشانیاں اِس(آسمان و زمین کی بادشاہت) سے کہیں زیادہ اور بڑھ کرہیں اور (اسی اعتبار سے ہم کہتے ہیں کہ)اللہ تعالیٰ نے معراج کی رات اپنے حبیب ﷺ کو جو نشانیاں و عجائبات دکھائے وہ زمین و آسمان کی بادشاہت سے بڑھ کر ہیں ، اس بیان سے ظاہر ہو گیا کہ حضور اقدس ﷺ کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فضیلت حاصل ہے(خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۱۵۴ملخصاً)
دوسرا مقام
سورۂ بنی اسرائیل میں ہی دوسرے مقام پر ہے :
وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ (پ١٥، بنى اسرائيل : ٦٠)
ترجمهٔ کنزالایمان : اور ہم نے نہ کیا وہ دِکھاوا جو تمہیں دِکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو۔
مِعْرَاج شریف کی صبح جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لوگوں کو اس بارے میں بتایا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لانے والے بعض لوگ مرتد ہو گئے، اِس آیت میں اُن لوگوں کو آزمائش میں ڈالے جانے کا ذِکْر ہے۔(1) اِس آیت سے بھی یہی پتا چلتا ہے کہ معراج شریف صرف روح کو نہ ہوئی بلکہ جسم اور روح دونوں کو ہوئی کیونکہ اگر حالت خواب میں فقط روح کو معراج ہوتی تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔
قرآن مجید اور معراج کا آخری حصہ
تیسرا مقام
اللہ پاک سورہ نجم آیت نمبر 1 تا 18 میں ارشاد فرمایا
وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى(1) مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰى(2) وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىﭤ(3)اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى(4) عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰى(5)ذُوْ مِرَّةٍؕ-فَاسْتَوٰى(6) وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىﭤ(7) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى(8)فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى(9) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىﭤ(10) مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(11) اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى(12)وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى(13)عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(14) عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىﭤ(15)اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰى(16)مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى(17) لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى(18)
وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى:تارے کی قسم،جب وہ اترے۔
تفسیر خازن میں ہے :نجم سے مراد تاجدارِ رسالت ﷺ کی ذات ِمبارکہ ہے،اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ (اس پیارے چمکتے) تارے محمد مصطفٰی ﷺ کی قسم !جب وہ معراج کی رات آسمانوں سے اترے۔( خازن، النجم، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۱۹۰)
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ: تمہارے صاحب نہ بہکے
اس آیت میں ’’صَاحِبْ‘‘ سے مراد نبی اکرم ﷺ ہیں اور ’’نہ بہکنے‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ حضورِ اَنور ﷺ نے کبھی حق اور ہدایت کے راستے سے عدول نہیں کیا اور ہمیشہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی توحید پر اور عبادت کرنے میں رہے، آپ کے دامنِ عِصْمَت پر کبھی کسی مکروہ کام کی گَرد نہ آئی ۔( ابو سعود، النجم، تحت الآیۃ: ۲، ۵ / ۶۴۱)
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى(8)فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى
پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔
اس سے تاجدارِ رسالت ﷺ کا اللہ تعالیٰ کے قرب سے مُشَرَّف ہونا مراد ہے اور آیت میں قریب ہونے سے حضورِ انور ﷺ کا اوپر چڑھنا اور ملاقات کرنا مراد ہے اور اتر آنے سے نازل ہونا،لوٹ آنا مراد ہے ۔اس قول کے مطابق آیت کا حاصلِ معنی یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے قرب میں باریاب ہوئے پھر وصال کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر مخلوق کی طرف متوجہ ہوئے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ا س سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا۔اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ رَبُّ اْلعِزَّت اپنے لطف و رحمت کے ساتھ اپنے حبیب ﷺ سے قریب ہو ااور اس قرب میں زیادتی فرمائی۔
ایک قول یہ ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اور جَبَّارْ رَبُّ الْعِزَّتْ قریب ہوا۔( بخاری)
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہِ اپنے مشہور کلام ’’قصیدۂ معراجیہ ‘‘میں اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب فرماتے ہیں :
پر اِن کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقۃً فعل تھا اُدھر کا
تنزّلوں میں ترقی افزا دَنٰی تَدَلّٰے کے سلسلے تھے
ہوا یہ آخر کہ ایک بجرا تَمَوُّجِ بحرِ ہو میں اُبھرا
دَنیٰ کی گودی میں ان کو لے کر فنا کے لنگراٹھا دیے تھے
اٹھے جو قصرِدنیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جاہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے
{ فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى: تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔} اس آیت میں مذکور لفظِ ’’قَوْسَیْنِ‘‘ کا ایک معنی ہے دو ہاتھ (یعنی دو شرعی گز) اور ایک معنی ہے دو کمانیں ۔اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جلوے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کے درمیان اتنی نزدیکی ہوئی کہ دو ہاتھ یا دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔( تفسیر قرطبی)
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’فاصلے کی یہ مقدار بتانے میں انتہائی قرب کی طرف اشارہ ہے کہ قرب اپنے کمال کو پہنچا اور باادب اَحباب میں جو نزدیکی تصوُّر کی جاسکتی ہے وہ اپنی انتہاء کو پہنچی۔ مزید فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نبی کریم ﷺ کی اس قدر قُربت سے معلوم ہوا کہ جوتاجدارِ رسالت ﷺ کی بارگاہ میں مقبول ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی مقبول ہے اور جو آپ ﷺ کی بارگاہ سے مَردُود ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے بھی مردود ہے۔( روح البیان، النجم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۹ / ۲۱۹)
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہِ اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب فرماتے ہیں ،
وہ کہ اُس در کا ہوا خلقِ خدا اُس کی ہوئی
وہ کہ اس دَر سے پھرا اللہ اس سے پھر گیا
فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى:پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی
اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندے حضرت محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔ یہاں جو وحی فرمائی گئی اس کی عظمت و شان کی وجہ سے یہ بیان نہیں کیا گیا کہ وہ وحی کیا تھی۔( جلالین مع جمل، النجم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۷ / ۳۱۶)
حضرت جعفر صادق رَضِیَ اللہ عَنْہُ نے فرمایا کہ اللہنے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو وحی فرمائی، یہ وحی بے واسطہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اوراس کے حبیب ﷺ کے درمیا ن کو ئی واسطہ نہ تھا اور یہ خدا اور رسول کے درمیان کے اَسرار ہیں جن پر اُن کے سوا کسی کو اطلاع نہیں ۔
بقلی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس راز کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اوریہ نہ بیان فرمایا کہ اپنے حبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کیا وحی فرمائی اور محب و محبوب کے درمیان ایسے راز ہوتے ہیں جن کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
علماء نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس رات میں جو آپ کو وحی فرمائی گئی وہ کئی قسم کے علوم تھے،ان میں سے چند علوم یہ ہیں :
(1)… شرعی مسائل اور اَحکام کا علم جن کی سب کو تبلیغ کی جاتی ہے۔
(2)… اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے ذرائع جو خواص کو بتائے جاتے ہیں ۔
(3)…علومِ ذَوْقِیّہ کے حقائق اور نتائج جو صرف اَخَصُّ الخواص کو تلقین کئے جاتے ہیں ۔
(4)… اور ان علوم کی ایک قسم وہ اَسرار ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ خاص ہیں کوئی انہیں برداشت نہیں کرسکتا۔( روح البیان، النجم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۹ / ۲۲۱-۲۲۲)
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(:دل نے اسے جھوٹ نہ کہا جو (آنکھ نے) دیکھا۔
یعنی سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قلب مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا ۔مراد یہ ہے کہ آنکھ سے دیکھا ،دِل سے پہچانا اور اس دیکھنے اور پہچاننے میں شک اور تَرَدُّد نے راہ نہ پائی۔
حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا
مفسرین کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رب عَزَّوَجَلَّ کو حقیقتاً چشمِ مبارک سے دیکھا ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خُلَّت اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کلام اورسرکارِ دو عالَم ﷺ کو اپنے دیدار سے اِمتیاز بخشا۔ حضرت کعب رَضِیَ اللہ عَنْہُ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دوبار کلام فرمایا اورسیّد المرسَلین ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ دیکھا۔(ترمذی، ۵ / ۱۸۴، الحدیث: ۳۲۸۹)
مسلم شریف کی حدیث سے ثابت ہے ،حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا جو کہ حِبْرُ الْاُمَّت ہیں وہ بھی اسی پر ہیں ۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ عَنْہُ قسم کھاتے تھے کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شبِ معراج اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا ۔ امام احمد رَضِیَ اللہ عَنْہُ فرماتے تھے کہ حضو رِ اَقدس صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا اُس کو دیکھا اُس کو دیکھا۔امام صاحب یہ فرماتے ہی رہے یہاں تک کہ سانس ختم ہوگیا (پھر آپ نے دوسرا سانس لیا)۔(خازن، النجم، تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۸، ۴ / ۱۹۲، ۱۹۴)
اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى(12)وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى(13)عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(14)
تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو۔ اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔
مشرکین کو جب معراج شریف کے واقعات معلوم ہوئے تو انہوں نے ان واقعات کا انکار کر دیا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے طرح طرح کے سوالات کرنے لگے ،کبھی کہتے کہ ہمارے سامنے بیتُ المقدس کے اوصاف بیان کریں اور کبھی کہتے کہ راستوں میں سفر کرنے والے ہمارے قافلوں کے بارے میں خبر دیں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میرے حبیب ﷺ سے ان کے دیکھے ہوئے کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ انہوں نے تو سدرۃُ المنتہیٰ کے پاس وہ جلوہ باربار دیکھا کیونکہ نمازوں میں تخفیف کی درخواست کرنے کیلئے چند بارچڑھنا اور اترنا ہوا۔( خازن، النجم، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۴، ۴ / ۱۹۲،)
سدرۃُ المنتہیٰ بیری کاایک درخت ہے ،اس کی جڑ چھٹے آسمان میں ہے اور اس کی شاخیں ساتویں آسمان میں پھیلی ہیں جبکہ بلند ی میں وہ ساتویں آسمان سے بھی گزر گیا ہے،اس کے پھل مقام ہجر کے مٹکوں جیسے اور پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح ہیں ۔
مفسرین نے اس درخت کو سدرۃُ المنتہیٰ کہنے کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں ۔ان میں سے دو وجوہات درج ذیل ہیں :
(1)…فرشتے،شُہداء اور مُتّقی لوگوں کی اَرواح اس سے آگے نہیں جا سکتیں اس لئے اسے سدرۃُ المنتہیٰ کہتے ہیں ۔
(2)…زمین سے اوپر جانے والی چیزیں اور اوپر سے نیچے آنے والی چیزیں اس تک آ کر رک جاتی ہیں اس لئے اسے سدرۃُ المنتہیٰ کہتے ہیں ۔( صاوی، النجم، تحت الآیۃ: ۱۴، ۶ / ۲۰۴۷)
جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جب تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو معراج کرائی گئی تو آپ کو سدرۃُ المنتہیٰ پر لے جایا گیا اور سدرہ چھٹے آسمان پر ہے ،زمین سے اوپر جانے والی چیزیں سدرہ پر آ کر رک جاتی ہیں ، پھر انہیں وصول کیا جاتا ہے اور اوپر سے نیچے آنے والی چیزیں اس تک آ کر رک جاتی ہیں پھر انہیں وصول کیا جاتا ہے۔( مسلم، ص۱۰۶، الحدیث: ۲۷۹(۱۷۳))
مَا زَاغَ الْبَصَرُ: آنکھ نہ کسی طرف پھری
یعنی اس دیدار کے وقت آنکھ نہ کسی طرف پھر ی اور نہ ادب کی حد سے بڑھی۔اس میں سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قوت کے کمال کا اظہار ہے کہ اُس مقام میں جہاں عقلیں حیرت زدہ ہیں آپ ثابت قدم رہے اور جس نور کا دیدار مقصود تھا اس سے بہر ہ اندوز ہوئے، دائیں بائیں کسی طرف توجہ نہ فرمائی اور نہ مقصودکے دیدار سے آنکھ پھیری ،نہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح بے ہوش ہوئے بلکہ اس مقام میں ثابت رہے۔(جلالین، النجم، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۴۳۸)
حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طاقت
اس سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسَلین ﷺ کی طاقت حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طاقت سے زیادہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تجلّی دیکھ کر بے ہوش ہو گئے اور حضور پُر نور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھا تو نہ آنکھ جھپکی ،نہ دل گھبرایا اور نہ ہی بے ہوش ہوئے۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہِ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیّد المرسَلین ﷺ کی نگاہ ِنبوت کا عالَم بیان فرماتے ہیں :
شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال
دھوم والنَّجم میں ہے آپ کی بینائی کی
نمایاں خبریں