وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں صوبوں کی حدود تبدیل کرنے کے بجائے انتظامی یونٹس کی تشکیل اور موجودہ نظام میں بہتری کی بات کی جارہی ہے، یہ معاملہ سندھی یا مہاجر کا نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق آباد ہاؤس میں تعمیراتی شعبے کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ وفاقی کابینہ میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی کوئی تجویز فی الحال زیرِ غور نہیں، تاہم آئین میں صوبوں کی تشکیل کا طریقہ موجود ہے اور آئینی ترامیم کی گنجائش بھی موجود ہے۔
انہوں نے کراچی کی آبادی سے متعلق مردم شماری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سندھ کی مجموعی آبادی کا 38 فیصد بتایا جاتا ہے، تاہم ان کے مطابق شہر کی حقیقی آبادی اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار میں کراچی کی آبادی کم دکھائی گئی۔
مصطفیٰ کمال نے این ایف سی ایوارڈ اور کراچی کے مالی وسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر کو اس کے جائز وسائل نہیں مل رہے۔ ان کے بقول کراچی کو ڈسٹرکٹ ٹیکس کی مد میں سالانہ اربوں روپے حاصل ہوتے تھے، مگر موجودہ نظام میں یہ رقم شہر کی ترقی پر پوری طرح خرچ نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ ملک کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے اور نئے انتظامی یونٹس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 28ویں آئینی ترمیم کا وقت آگیا ہے۔
وزیر صحت نے مزید بتایا کہ وزارتِ صحت قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر 210 ارب روپے کی لاگت سے ہیلتھ کوریج پلان پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد شہریوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے








