وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومتی مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی نے عدالتی ہدایات کی کتنی پاسداری کی، یہ سب کے سامنے ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جارہا تھا، تاہم اسپتال کے باہر ایسی صورتحال پیدا ہوئی جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ تھا، اسی لیے آخری وقت میں انہیں پمز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پمز میں ماہر ڈاکٹروں کی میڈیکل ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ کیا اور انہیں صحت کے اعتبار سے فٹ قرار دیا، جس کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ توہین عدالت اس وقت ہوتی جب حکومت بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل ہی نہ کرتی، لیکن انہیں اسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنہ بھی کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم میں پی ٹی آئی کے لیے بھی بعض پابندیاں مقرر کی گئی تھیں، اب یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ پی ٹی آئی نے عدالتی حکم کی کن ہدایات پر عمل کیا اور کن پر نہیں۔
وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ حکومت کسی قیدی کی صحت سے غافل نہیں، جیل میں موجود ہر قیدی کو ضروری طبی سہولیات ملنی چاہئیں اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔








