LogoWednesday, August, 26, 2026

News Point PK

نظام ناکام نہیں، بنایا گیا ہے، اسلام آباد اور لاہور کی اصل لڑائی ن لیگ کے اندر ہے، بلاول بھٹو

نظام ناکام نہیں، بنایا گیا ہے،  اسلام آباد اور لاہور کی اصل لڑائی ن لیگ کے اندر ہے، بلاول بھٹو

ویب ڈیسک

07-Aug-2026
|

تازہ ترین

نظام ناکام نہیں، بنایا گیا ہے،  اسلام آباد اور لاہور کی اصل لڑائی ن لیگ کے اندر ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد میں ان کی اپنی حکومت بھی دباؤ کا شکار ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں اصل کشمکش ن لیگ کے اندر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو اتحادیوں سے لڑوانے کی کوششیں ان کی اپنی جماعت کے بعض حلقوں کی جانب سے کی جا رہی ہیں، جبکہ اصل اختلافات اسلام آباد اور لاہور کے درمیان موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نظام خود ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے ناکام بنایا گیا ہے۔ جب تک عوام کی حاکمیت کو حقیقی معنوں میں تسلیم نہیں کیا جاتا، ملک میں سیاسی نظام مستحکم نہیں ہو سکتا۔

نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر یہ عوام کی خواہش اور فیصلہ ہوگا تو پاکستان پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی، تاہم عوامی تائید کے بغیر ایسا کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی تاریخ میں پہلی بار عوام کو اتنی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق طویل عرصے تک انٹرنیٹ اور سڑکوں کی بندش نے معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے اور آزاد کشمیر اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کے مطابق ایک سچائی و مفاہمتی کمیشن قائم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ آنے تک تمام فریقین احتجاج اور دیگر اقدامات روک دیں تاکہ حالات معمول پر آسکیں۔

بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کے انتخابات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار انتخابات مختلف مراحل میں کرائے گئے، جس کا مقصد مبینہ طور پر دھاندلی کے امکانات پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک وحدت ہے، اس لیے پورے خطے میں ایک ہی روز انتخابات ہونے چاہییں تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی دھاندلی زدہ اور خونریز انتخابات کو قبول نہیں کرے گی اور اگر وہ اپوزیشن میں ہوتے تو حکومت کو زیادہ سخت سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp