LogoWednesday, August, 26, 2026

News Point PK

چار صوبوں کا موجودہ نظام مؤثر نہیں، مزید انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں، مصطفیٰ کمال

چار صوبوں کا موجودہ نظام مؤثر نہیں، مزید انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں، مصطفیٰ کمال

ویب ڈیسک

31-Jul-2026
|

تازہ ترین

چار صوبوں کا موجودہ نظام مؤثر نہیں، مزید انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں، مصطفیٰ کمال

ملتان: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں ایک وفاق اور چار صوبوں پر مشتمل موجودہ انتظامی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا، اس لیے بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے مزید انتظامی یونٹس قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے بڑا ملک ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر نظام میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے صحت کے شعبے میں درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیوریج کے پانی کی ٹریٹمنٹ کا مؤثر نظام موجود نہیں، شرحِ افزائشِ آبادی 3.5 فیصد جبکہ معاشی ترقی کی شرح 2.5 فیصد ہے، جو تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر سال تقریباً 11 ہزار ماؤں کی دورانِ زچگی یا اس سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث اموات ہوتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت تقریباً 9 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے، جبکہ عالمی سطح پر پاکستانی نرسوں کی بڑی طلب موجود ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت دے کر بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملکی معیشت میں زرِ مبادلہ کے ذریعے مثبت کردار ادا کر سکیں۔

ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ قیمتوں میں ردوبدل کا اختیار وفاقی وزیرِ صحت کے پاس نہیں بلکہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے کابینہ کی ایک کمیٹی کام کر رہی ہے جبکہ ڈریپ نے بعض ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں ادویات تیار کی جاتی ہیں، تاہم ان کا خام مال درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کئی ضروری ادویات مارکیٹ سے غائب ہیں اور بعض مریضوں کو وہی دوائیں ایجنٹوں سے دگنی قیمت پر خریدنا پڑتی ہیں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کا نظام صرف اسپتال بنانے سے بہتر نہیں ہوگا بلکہ بچوں کی بروقت ویکسینیشن، صاف پانی کی فراہمی اور بنیادی صحت کی سہولتوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے 68 فیصد بچے آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات سے دوچار ہیں۔

اپنی سیاسی جماعت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی ہی ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ہیں۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp