قوم کی قسمت آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی!!

نعیم اختر
خاص خبریں

پاکستان کے وفاقی وزیرخزانہ کا یہ بیان کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنا پڑے گا صرف ایک معاشی بیان نہیں بلکہ قومی خودمختاری پر ایک تلخ سوالیہ نشان ہے یہ الفاظ کروڑوں پاکستانیوں کے دل پر اس لیے بھی بجلی بن کر گرے ہیں کیونکہ ان میں ایک غلامانہ بے بسی جھلکتی ہے، گویا اس ملک کے محنت کشوں کی قسمت ،ان کے بچوں کی بھوک، ان کی دوائیوں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ اب اسلام آباد میں نہیں بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے دفاتر میں ہوتا ہے۔
یہ المیہ صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی ہے ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے دوسری طرف حکومت چند فیصد اضافے کو بھی عوام پر احسان بنا کر پیش کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف سات فیصد اور پنشن میں پانچ فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں یہ اضافہ کسی زخمی انسان کو نمک پیش کرنے کے مترادف نہیں،بازاروں میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں بجلی اور گیس کے بل متوسط طبقے کے لیے عذاب بن چکے ہیں، ادویات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہے بچوں کی فیسیں، گھروں کے کرایے اور روزمرہ ضروریات نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے، ایک سرکاری ملازم مہینے کے آخری دنوں میں صرف تنخواہ ختم ہونے کا نہیں بلکہ عزت نفس بچانے کا حساب لگاتا ہے، ایک پنشنر اپنی بیماری سے زیادہ اس فکر میں مبتلا ہے کہ دوائی خریدے یا گھر کا راشن پورا کرے۔
لیکن اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو حکومت کا دوہرا معیار ہے، جب اشرافیہ کی مراعات بڑھانی ہوں، وزیروں اور اعلیٰ افسران کے پروٹوکول میں اضافہ کرنا ہو، نئی گاڑیاں خریدنی ہوں یا بیرونی دوروں پر قومی خزانہ لٹانا ہو تو کسی آئی ایم ایف کی اجازت درکار نہیں ہوتی تب کسی کو خزانہ خالی ہونے کا احساس نہیں ہوتا تب کوئی وزیر قوم کو کفایت شعاری کا درس نہیں دیتا مگر جیسے ہی بات عام ملازم یا پنشنر کے حق کی آتی ہے تو فوراً آئی ایم ایف کا خوف سامنے لا کھڑا کیا جاتا ہے یہی وہ رویہ ہے جو عوام کے دلوں میں احساس محرومی کو جنم دیتا ہے ،پاکستانی عوام قربانی دینے سے انکاری نہیں ہمیشہ سے دیتی آرہی ہے ،مگر سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ صرف کمزور طبقہ ہی کیوں دے آخر کب تک مزدور، کلرک، استاد، نرس، پولیس اہلکار اور ریٹائرڈ بزرگ اپنی بنیادی ضروریات قربان کرتے رہیں گے جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ عیش و عشرت کی نئی داستانیں رقم کرتے رہیں گے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب صرف معاشی اعداد و شمار نہیں سنتے وہ اپنے خالی برتن بھی دیکھتے ہیں، انہیں جی ڈی پی کی شرح سے زیادہ اپنے بچوں کی بھوک دکھائی دیتی ہے، قوم اب یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ اگر ملک آزاد ہے تو پھر عوام کے بنیادی فیصلے عالمی ادارے کیوں کریں کیا ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں کی فلاح نہیں، کیا حکمرانوں کا فرض صرف قرضے لینا اور عوام پر بوجھ ڈالنا رہ گیا ہے۔
آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ اعتماد کا بحران ہے، عوام کو محسوس ہو رہا ہے کہ یہ نظام طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہے، یہی احساس ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا رہا ہے، اگر حکومت واقعی عوامی حکومت ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے، اشرافیہ کی مراعات ختم کرنا ہوں گی اور قربانی کا آغاز اوپر سے کرنا ہوگا۔
ورنہ وہ دن دور نہیں جب عام آدمی کے دل سے یہ آخری امید بھی ختم ہو جائے گی کہ اس ملک میں انصاف، برابری اور عزت کے ساتھ جینے کا حق صرف طاقتوروں کے لیے مخصوص نہیں۔
نیوز پوائنٹ پر شائع ہونے والے مضامین کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔(ادارہ)
نمایاں خبریں
ریاستی اداروں میں مکمل یکسوئی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، وزیر اطلاعات

پاکستان کے نئے بجٹ کی تیاری، آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت میں تیزی

حکومت کا آئندہ بجٹ سے متعلق نواز شریف کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا دہشت گردوں کے حوالے، صوبے میں حکومتی رٹ نہیں،لوگ گھروں میں محصور ہیں، سینیٹر عطا الرحمن

بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں، سینیٹ میں رانا ثناء اللہ کا دعویٰ

Automate. Scale. Grow with Webrix.
Helping businesses grow digitally