پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت عوامی ریلیف کے مطالبات پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا اہم دور آج اسلام آباد میں ہوگا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے چیئرمین اور نائب امیر لیاقت بلوچ کے مطابق مذاکرات میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، آئی پی پیز کے معاہدوں کے خاتمے اور بجلی و روٹی کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات زیرِ بحث آئیں گے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ معاملے کا حل حکومت کی سنجیدگی اور اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کتنی جلدی عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے۔
جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم میں عنایت اللہ خان، فراست علی شاہ، ضیاء الدین انصاری، نصراللہ رندھاوا اور نوید علی بیگ شامل ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے جماعت اسلامی کی تجاویز سننے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ مذاکرات کے ساتھ جماعت اسلامی کا احتجاجی سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ ان کے مطابق ملک بھر میں دھرنے، احتجاج اور جلسے عوامی مسائل کے حل تک جاری رکھے جائیں گے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی، بجلی کی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا ہے اور حکومت سے عوام کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کررہی ہے۔








