LogoSaturday, October, 10, 2026

News Point PK

پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرکے صوبے کا امن داؤ پر لگا دیا، عطا اللہ تارڑ

پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرکے صوبے کا امن داؤ پر لگا دیا، عطا اللہ تارڑ

ویب ڈیسک

10-Oct-2026
|

خاص خبریں

پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرکے صوبے کا امن داؤ پر لگا دیا، عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے کی پالیسی نے صوبے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے 13 سال سے صوبے میں برسرِ اقتدار رہنے کے باوجود پی ٹی آئی حکومت ترقی اور گورننس کے میدان میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرکے علاقے کلیئر کرتی اور امن بحال کرتی ہیں، تاہم ان کے بقول تحریک انصاف کی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر کو واپس لاکر آباد کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام بھی عائد کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر مؤثر مؤقف سامنے نہیں آرہا۔

انہوں نے خواتین کے حقوق اور آزادیوں سے متعلق طالبان کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسی سوچ کو صوبے کے عوام پر کیسے مسلط کیا جاسکتا ہے؟

عطا اللہ تارڑ نے کوہاٹ میں شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل فہیم اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کے اہل خانہ کو جواب دینا ضروری ہے۔

ان کا الزام تھا کہ کوہاٹ، ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات کے پس منظر میں صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھتے ہیں، جبکہ حکومت کی توجہ امن و امان اور عوامی مسائل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت انسدادِ دہشت گردی کے لیے تقریباً 700 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم صوبے میں سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانے، پولیس کو جدید آلات فراہم کرنے اور سیف سٹی کیمروں کا نظام قائم کرنے کے لیے کیا پیش رفت ہوئی؟

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے بجائے احتجاجی سیاست پر وقت اور وسائل صرف کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کی رہائی کے لیے سرگرمیاں اپنی جگہ، لیکن ان کی وجہ سے صوبے کے عوام کے مسائل نظرانداز نہیں ہونے چاہییں۔

عطا اللہ تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بتائے کہ اس نے عوام کو بڑے اسپتال، یونیورسٹیاں، ہائی ویز یا جدید آئی ٹی منصوبوں کی صورت میں کیا سہولتیں فراہم کی ہیں۔

انہوں نے تعلیم، صحت، سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کے منصوبوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دیگر صوبوں میں ترقیاتی اور انتظامی امور پر کام ہوتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں گورننس کے حوالے سے توجہ کی کمی نظر آتی ہے۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور نوجوانوں کی تربیت کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے ایندھن ریلیف اسکیم سے ایک کروڑ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو غربت، ناکافی سہولتوں اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، اس لیے صوبائی حکومت کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے امن و امان، عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دینی چاہیے۔

ان کے بقول سیاسی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے سے صوبے کے امن اور مستقبل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp