LogoSaturday, October, 10, 2026

News Point PK

نئے صوبے، بہتر حکمرانی اور عوامی سہولتیں، پاکستان کیلئے اہم تجاویز سامنے آگئیں

نئے صوبے، بہتر حکمرانی اور عوامی سہولتیں، پاکستان کیلئے اہم تجاویز سامنے آگئیں

ویب ڈیسک

10-Oct-2026
|

تازہ ترین

نئے صوبے، بہتر حکمرانی اور عوامی سہولتیں، پاکستان کیلئے اہم تجاویز سامنے آگئیں

اسلام آباد: پاکستان میں بہتر حکمرانی، عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامی اختیارات کو عوام کے قریب لانے کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی تشکیل سے متعلق تجاویز سامنے آگئی ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کے ایک تجزیے میں پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش انتظامی چیلنجز کا جائزہ لیتے ہوئے چھوٹی اور مؤثر انتظامی اکائیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

تجزیے کے مطابق پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور موجودہ انتظامی ڈھانچے پر دباؤ کے باعث حکومتی اداروں کی استعداد بڑھانا ضروری ہے۔ جب بڑے اور متنوع علاقوں کی ضروریات ایک ہی صوبائی حکومت کے ذریعے پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو فیصلہ سازی عوام سے دور ہوجاتی ہے، جس سے سرکاری خدمات کی فراہمی اور انتظامی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کے موجودہ چار صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی گئی ہے کہ صوبائی دارالحکومتوں سے دور واقع اضلاع کو انتظامی توجہ، وسائل اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

16 سے 25 انتظامی اکائیوں کی تشکیل کی تجاویز

تجزیے میں پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان میں موجودہ چاروں صوبوں کو مزید تقسیم کرکے 16 انتظامی اکائیاں تشکیل دینے، آبادی اور جغرافیائی توازن کی بنیاد پر 23 سے 25 اکائیاں قائم کرنے، جبکہ موجودہ ڈویژنوں کو بنیاد بنا کر 30 سے زائد انتظامی اکائیوں کے قیام کے امکانات کا جائزہ لینا شامل ہے۔

تجویز کردہ 16 اکائیوں کی صورت میں فی اکائی اوسط آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ رہنے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق اس نوعیت کی انتظامی تنظیم نو سے فیصلہ سازی، بجٹ کی تقسیم اور عوامی مسائل کے حل میں مقامی ضروریات کو زیادہ اہمیت دی جاسکتی ہے۔

تعلیم اور سرکاری خدمات کی صورتحال پر تشویش

تجزیے میں پاکستان کے تعلیمی اور انتظامی مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ صوبائی حکومتوں کی اپنی آمدن مجموعی قومی پیداوار کے 0.9 فیصد سے بھی کم ہے۔

پلاننگ کمیشن کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پرفارمنس انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جائزہ لیے گئے 134 اضلاع میں سے کوئی بھی انتہائی اعلیٰ کارکردگی کے زمرے میں شامل نہیں ہوسکا۔ یہ صورتحال اضلاع کی ضروریات، بجٹ کی تقسیم اور تعلیمی نتائج کے درمیان موجود خلا کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق انتظامی کمزوریاں صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ سیلاب، پانی کی قلت، شہری آبادی میں اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے معاملات پر مؤثر منصوبہ بندی میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔

18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ

تجزیے میں پاکستان میں ہونے والی آئینی اور مالیاتی اصلاحات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے متعدد اختیارات اور ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں، جبکہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا۔

تاہم، تجزیے کے مطابق مالی وسائل اور اختیارات کی منتقلی کے باوجود بعض علاقوں میں انتظامی صلاحیت، ٹیکس وصولی اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق مسائل برقرار ہیں۔

دیگر ممالک کے انتظامی ماڈلز کی مثالیں

رپورٹ میں نائجیریا، انڈونیشیا اور کینیا سمیت دیگر ممالک کی مثالیں پیش کی گئی ہیں، جنہوں نے آبادی میں اضافے اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر اپنے حکومتی ڈھانچوں میں تبدیلیاں کیں۔

نائجیریا نے اپنے انتظامی ڈھانچے کو وسعت دیتے ہوئے ریاستوں کی تعداد 36 تک پہنچائی، جبکہ انڈونیشیا میں صوبوں کی تعداد بڑھ کر 38 ہوگئی۔ کینیا نے بھی 2013 میں اپنے سابقہ صوبائی ڈھانچے کی جگہ 47 منتخب کاؤنٹی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا۔

ان مثالوں کے تناظر میں تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں انتظامی اکائیوں کا حجم کم رکھنے سے مقامی سطح پر حکومتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے نتائج کا انحصار متعلقہ اداروں کی مالی اور انتظامی صلاحیت پر ہوتا ہے۔

صرف نئے صوبے بنانا کافی نہیں، وسائل اور اختیارات بھی ضروری

تجزیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ محض انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ نئے صوبوں یا اکائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے انہیں مناسب مالی وسائل، ٹیکس وصولی کے اختیارات، تربیت یافتہ انتظامی عملہ اور واضح ذمہ داریاں دینا ضروری ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق انتظامی تقسیم کا بنیادی مقصد حکومتی فیصلوں اور وسائل کو ان شہریوں کے قریب لانا ہونا چاہیے جو ان فیصلوں سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے لیے انتظامی حدود، مالی وسائل، اختیارات اور جوابدہی کے نظام کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔

یوں پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق بحث میں بنیادی سوال صرف انتظامی اکائیوں کی تعداد نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسا کون سا نظام اختیار کیا جائے جو عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی مسائل کے بروقت حل میں مددگار ثابت ہو۔۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp