کراچی: ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے دہم جماعت کے سالانہ امتحانات کے نتائج کے اجرا کے بعد نتائج کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ طلبہ اور والدین نے بورڈ کے آئی ٹی سسٹم میں مبینہ خامیوں، سرور کی خرابی اور ریکارڈ میں غلطیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نتائج جاری ہوتے ہی بورڈ کی ویب سائٹ پر رش بڑھ گیا جس کے باعث سرور بار بار ڈاؤن ہونے کی شکایات سامنے آئیں، جس سے ہزاروں طلبہ اور والدین کو نتائج دیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
والدین اور طلبہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی شکایات کے مطابق متعدد امیدواروں کے ریکارڈ میں مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ بعض طلبہ کے نام درست تھے تاہم رول نمبر، والد کے نام اور دیگر کوائف میں تبدیلی دیکھی گئی، جبکہ کچھ امیدواروں نے ایک ہی رول نمبر پر مختلف اوقات میں مختلف نتائج ظاہر ہونے کی شکایت کی۔
کئی طلبہ نے دعویٰ کیا کہ امتحان دینے کے باوجود انہیں غیر حاضر ظاہر کیا گیا، جبکہ بعض طلبہ پہلے کامیاب اور بعد میں ناکام یا غیر حاضر دکھائی دیے، جس کے باعث نتائج کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے۔
رپورٹ کے مطابق کے مطابق بڑی تعداد میں طلبہ کی رول نمبر سلپس اور دیگر معلومات بھی آن لائن نظام میں درست طور پر ظاہر نہیں ہو سکیں۔ نتائج میں سامنے آنے والی مبینہ خامیوں پر بورڈ کے آئی ٹی شعبے سے وضاحت طلب کی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق معاملے پر مکمل اطمینان بخش جواب سامنے نہیں آ سکا۔
چیئرمین میٹرک بورڈ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب والدین کا کہنا ہے کہ نتائج طلبہ کے لیے خوشی کے بجائے پریشانی کا باعث بن گئے ہیں۔ ان کے مطابق امتحانات کے نتائج طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اس لیے نتائج جاری کرنے سے قبل مکمل تصدیق ضروری تھی۔
والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ بورڈ فوری طور پر تمام شکایات کا ازالہ کرے، درست نتائج اور ریکارڈ فراہم کرے تاکہ طلبہ کو مزید ذہنی دباؤ اور دفتری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ غلط نتائج کے باعث انہیں اب تصحیح کے لیے بورڈ دفاتر کے چکر لگانے پڑ سکتے ہیں، جس سے ان کی مزید مشکلات میں اضافہ ہوگا۔








