سوات: ضلع سوات کے علاقے مٹہ میں پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مشترکہ آپریشن کے دوران چار مبینہ خوارج ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔ کارروائی کے دوران ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار بھی جامِ شہادت نوش کر گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فتنۃ الخوارج کے خلاف مشترکہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں مٹہ کے علاقے راشد سر میں کیے گئے آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک اہم اور اسٹریٹجک مقام پر کامیابی سے کنٹرول حاصل کر لیا۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ایلیٹ فورس کے کانسٹیبل گلفام نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہادت پائی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن ابھی جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض مسلح افراد ایک مکان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور مبینہ طور پر اہلِ خانہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث سکیورٹی فورسز انتہائی احتیاط سے کارروائی آگے بڑھا رہی ہیں۔
دفاعی و سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو انسانی ڈھال بنانا دہشت گردوں کی کمزوری اور بین الاقوامی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کی عکاسی کرتا ہے۔
حکام کے مطابق علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مسلح عناصر کا خاتمہ یقینی نہیں بنا لیا جاتا۔








