مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج جاری ہے اور دھرنا ساتویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کرسکتی تو جماعت اسلامی بھی دھرنا ختم نہیں کرے گی، احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور جلد لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے خواتین کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں خواتین کو روزگار، تعلیم اور صحت کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ ان کے بقول ڈاکٹر بننے والی بچیوں کو بھی ہاؤس جاب میں مکمل مواقع نہیں مل رہے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے بننے والے اسکول فروخت کیے جارہے ہیں جبکہ حکمران اپنی مراعات اور عیاشیوں میں کمی نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی رفتار خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد صرف پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک محدود نہیں، بلکہ معیاری تعلیم، علاج اور روزگار کی فراہمی بھی عوام کا بنیادی حق ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ یہ دھرنا محض ایک احتجاج نہیں بلکہ عوامی حقوق کی جدوجہد کا آغاز ہے، حکومت کو عوامی مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران اپنی بڑی گاڑیوں اور غیرضروری مراعات میں کمی کریں اور عوام کے وسائل عوام پر خرچ کریں۔
انہوں نے پنجاب میں خواتین کے تحفظ اور تعلیم کے مسائل پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خواتین کو محفوظ ماحول، تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔








