وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنما ملک و عوام کے بجائے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے سیاست کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کوئٹہ سے جاری بیان میں ضیا لانگو نے کہا کہ بلوچ اور پشتون قوم پرست رہنماؤں کا اپنا نظریہ بھی ایک نہیں، جبکہ بلوچستان کے عوام اور نوجوانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کی وفاداری کس کے ساتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اور تمام بلوچ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان ہی ان کا وطن اور ملک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی پاکستان کا جھنڈا لگاتے ہیں لیکن افغانستان کو وطن قرار دیتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا کہ کیا اختر مینگل نے کسی پنجابی پاکستانی کے قتل کی مذمت کی؟ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے عوام کو مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں اور ایمبولینسز تک چوری کی گئی ہیں۔
ضیا لانگو نے کہا کہ آئین پاکستان کو تسلیم کرنے والوں کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، تاہم دہشت گردی کا مقابلہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیموں کے کمانڈرز دہشت گردی کو کاروبار بنا کر مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں اور نوجوانوں و خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔








