ایران کی وزارتِ دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ ملک کے پاس طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے اسلحہ تیار کرنے کی وافر صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران اسلحے کی پیداوار، جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں ڈھائی گنا بڑھ گئی، جبکہ محفوظ اور متبادل پیداواری مراکز کی بدولت فوجی سازوسامان کی تیاری مسلسل جاری رہی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ تقریباً 9 ہزار کمپنیوں نے جنگ کے دوران رضاکارانہ طور پر فوجی سازوسامان کی تیاری میں حصہ لیا۔ وزارتِ دفاع میزائل، ڈرون، بحری اور فضائی یونٹس کے ساتھ مل کر جنگی تجربات کی روشنی میں ہتھیاروں کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔
رضا طلائی نیک کے مطابق ایران کی پہلی ترجیح اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنا ہے، تاہم مستقبل میں اضافی پیداوار کو برآمد کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔








