امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو دھرنے، احتجاج، ہڑتال اور لانگ مارچ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
گورنر ہاؤس سندھ کے باہر پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے کے چھٹے روز شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور آئی پی پیز کے معاملے پر بات کرے، ورنہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت لاہور، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد، لاڑکانہ اور جیکب آباد سمیت ملک بھر میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ 11 اور 12 ربیع الاول کو دھرنوں میں سیرت کانفرنسز منعقد ہوں گی جبکہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔
حافظ نعیم نے کہا کہ اگلے مرحلے میں دھرنے پیدل مارچ کی صورت میں اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے اور ملک بھر سے لوگ دارالحکومت پہنچیں گے۔ ان کے بقول عوامی احتجاج کو حکومتی رکاوٹیں نہیں روک سکیں گی۔
امیر جماعت اسلامی نے حکمرانوں پر عوام کے وسائل لوٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ملکی معیشت میں بڑا حصہ ڈالتا ہے، مگر شہر کے مسائل حل نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی، بجلی کے فکس چارجز اور دیگر ٹیکسز کو عوام پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔








