وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اگر چین اپنی قوم کو بدل سکتا ہے تو پاکستان بھی ترقی اور تبدیلی کی منزل حاصل کرسکتا ہے، آج دنیا پاکستان کی کامیابیوں کے قصیدے پڑھ رہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نارووال میں دفاعِ پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اندرونی طور پر منتشر قومیں بیرونی دشمن کا زیادہ دیر مقابلہ نہیں کرسکتیں، اس لیے قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید دور میں جنگ کا میدان وسیع ہوچکا ہے، آج توپوں اور ٹینکوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی بھی جنگ کا حصہ بن چکی ہے۔ پاکستان کو بھی اپنے معاشرے کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے 1965 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جنگ کا اندازہ روایتی عسکری طاقت سے لگایا جاتا تھا، تاہم آج کے میدانِ جنگ میں ٹیکنالوجی اور نفسیاتی حربوں کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔
احسن اقبال نے 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 6 مئی کو بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا، جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دشمن کے جدید ترین طیاروں کو گرتے دیکھا گیا اور 2025ء میں بھارت کو اندازہ ہوگیا کہ وہ پاکستان سے جنگ نہیں جیت سکتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی جانب سے ’’سندور 2‘‘ کا ذکر پاکستان کے خلاف غیر روایتی جنگ کے تسلسل کی علامت ہے اور اسی تناظر میں 2026ء میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ آج دنیا پاکستان کی صلاحیتوں کو تسلیم کررہی ہے، چین بدل سکتا ہے تو پاکستان بھی بدل سکتا ہے۔ ہمیں قومی اتحاد کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، تعلیم اور ترقی پر توجہ دینا ہوگی۔
احسن اقبال نے دفاعِ پاکستان کے موقع پر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید صرف اپنی جان کی قربانی نہیں دیتا بلکہ اس کے بچے اور خاندان بھی قربانی دیتے ہیں، قوم شہداء کے خاندانوں کی مقروض ہے۔








