کوئٹہ : وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بعض عناصر شناخت کی بنیاد پر علیحدگی کی بات کرتے ہیں، تاہم پاکستان کو توڑنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ بیرونِ ملک موجود پاکستان مخالف عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نوجوان ریاست مخالف پروپیگنڈے سے دور رہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق 21ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک بے نتیجہ جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، بندوق کے زور پر کسی نظریے کو مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق پسماندگی یا غیر متوازن ترقی کو تشدد کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بلوچستان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی امتحانی نظام متعارف کرایا گیا ہے جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران عوامی شعبے کے ترقیاتی پروگرام میں 100 فیصد پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کیلئے وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے کام شروع کردیا ہے، کرپشن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور سرکاری ملازمتیں میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں بہتر طرزِ حکمرانی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔








