وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں امن و امان ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کی نئی لہر کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کے بقول سرحدوں کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہے، جس کے باعث سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے عوام کو بھی پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس سال کو امن کا سال قرار دیا گیا، اسی دوران دہشت گرد عناصر کو چھوڑا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ آج اگر سوات متاثر ہے تو کل بونیر سمیت دیگر علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ خیبرپختونخوا میں امن بحال کرکے دکھائیں گے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید مؤثر اور سخت حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں، جبکہ جن اداروں کا کام سیاست نہیں، وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان اداروں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے عوام میں ردعمل اور بے چینی کو جنم دیتے ہیں، اس لیے تمام فیصلے عوامی اعتماد اور شفافیت کو مدنظر رکھ کر کیے جانے جائیں-








