ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحانہ کارروائیوں کے لیے نہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انقرہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں دیگر ممالک اس کے دفاع میں مدد کریں گے، تاہم ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر کارروائی کے لیے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔
حاقان فیدان کے مطابق ترکیہ اور سعودی عرب کے فوجی حکام فضائی دفاع، برقی جنگ اور تکنیکی معاونت سمیت دفاعی تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اگست میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، تاہم معاہدے کی ترک پارلیمنٹ سے توثیق ابھی باقی ہے۔








