کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے ضلع نوشکی میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ضلع بھر میں تین روزہ کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 28 جولائی کو نوشکی ویسٹرن بائی پاس پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کی پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے، سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں اور ضلعی انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کی سفارشات کے بعد ضلع کی امن و امان کی صورتحال کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، حساس سرکاری تنصیبات اور قومی شاہراہ این-40 پر دہشت گرد حملوں میں اضافے کے باعث عوامی جان و مال اور املاک کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق اگست کے دوران بھی دہشت گردی کے مزید واقعات کا خدشہ موجود ہے۔
حکومت بلوچستان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت 28 جولائی رات 8 بجے سے 31 جولائی رات 8 بجے تک ضلع نوشکی میں مکمل کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کرفیو کے دوران شہریوں کو مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر گھروں سے نکلنے، غیر ضروری سفر، عوامی اجتماعات اور جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق ڈپٹی کمشنر نوشکی، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد سرکاری افسران، ایمرجنسی طبی عملے، ریسکیو سروسز، یوٹیلیٹی اداروں اور عوامی مفاد میں ضروری خدمات انجام دینے والے افراد کو کرفیو سے استثنیٰ دے سکیں گے۔
حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کرفیو پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔








