جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت کی جانب سے 15 نئے صوبے بنانے کی تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آئین کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خانیوال میں جے یو آئی (ف) کے رہنما علامہ اکرام القادری کی عیادت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک جانب ملک کے دو صوبے مشکلات اور بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں اور دوسری جانب حکومت نئے صوبے بنانے کی بات کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی اعتماد مکمل طور پر کھو چکی ہے، ایسے میں 15 صوبے بنانے کی تجویز درست فیصلہ نہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس سے قبل فاٹا کے انضمام کا فیصلہ بھی ان کے بقول بدترین ثابت ہوا۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، آئینی معاملات کو سیاسی تجربات کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت جاری ہے، جبکہ اسمبلی کے اندر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے پر بھی مشاورت کی جائے گی۔








