وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت بین الادارہ جاتی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کرانے کی منظوری دے دی گئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیگزویلنٹ ویکسین کی طرف منتقلی پاکستان کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں اہم پیش رفت ہے۔ حکومت گزشتہ 14 ماہ سے گاوی اور دیگر عالمی شراکت داروں کے تعاون سے اس ویکسین تک رسائی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہیگزویلنٹ ویکسین بچوں کو چھ بیماریوں سے تحفظ فراہم کرے گی جبکہ اس کے استعمال سے بچوں کو کم انجیکشن لگیں گے، جس سے انہیں کم تکلیف ہوگی اور والدین کا اعتماد و تعاون بھی بہتر ہوگا۔
وزیر صحت کے مطابق ہیگزویلنٹ ویکسین کی شمولیت سے حفاظتی ٹیکہ جات کا نظام مزید مؤثر بنانے، دور دراز علاقوں تک ویکسین کی رسائی بہتر کرنے اور بچوں میں ویکسینیشن کے خلا کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئی ویکسین سے ملک میں ویکسینیشن کوریج بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے گاوی، گلوبل فنڈ، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، گیٹس فاؤنڈیشن اور دیگر شراکت داروں کے تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔








