خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں خزینہ بانڈہ پولیس چوکی پر فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت 10 پولیس اہلکار شہید اور 28 زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس کی بھرپور جوابی کارروائی میں 15 دہشت گرد مارے گئے اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے فوراً بعد چوکی میں موجود اہلکاروں کی مدد کے لیے ایس ڈی پی او سٹی کی سربراہی میں اضافی نفری روانہ کی گئی، تاہم راستے میں دہشت گرد پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے۔ حملہ آوروں نے کمک پر شدید فائرنگ کی، جس سے قافلے میں شامل بکتر بند گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
شدید حملے کے باوجود پولیس اہلکاروں نے غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ڈی ایس پی دیار خان سمیت 10 اہلکار شہید جبکہ 28 زخمی ہوئے۔ پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
رپورٹ کے مطابق انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے بتایا کہ جوابی آپریشن میں 15 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس ہر مشکل گھڑی میں دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔
آئی جی پولیس نے اعلان کیا کہ شہداء کے لیے اعلیٰ ترین اعزازات کی سفارش کی جائے گی اور وہ خود شہداء کے لواحقین سے ملاقات کر کے تعزیت کریں گے، جبکہ زخمی اہلکاروں کی عیادت بھی کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری ہیں۔ ان کے مطابق سوات میں دہشت گردوں کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنایا گیا، ہنگو میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا جبکہ پشاور میں بھی گزشتہ شب دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔








