پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے لاہور، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنے نویں روز میں داخل ہوگئے، جبکہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے لاہور کے چیئرنگ کراس مال روڈ پر دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی کیمپ قائم کیے جاچکے ہیں اور آج کی مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل رات کو سامنے لایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 11 اور 12 ربیع الاول کو دھرنوں کے مقامات پر سیرت کانفرنسیں منعقد ہوں گی، جبکہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر ہڑتال ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلے چینی درآمد کی گئی اور اب دوبارہ برآمد کی اجازت دی جارہی ہے، اسی طرح گندم کی برآمد سے قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے یوکرائن سے درآمد کی گئی گندم کا حساب بھی عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمران طبقہ اپنی مراعات اور سرکاری اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا رہا ہے۔ ان کے بقول حکومتی عہدیداروں کی مراعات کم کرکے عوام کو ریلیف دیا جانا چاہیے۔
پٹرولیم لیوی پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ لیوی کا براہ راست تعلق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے نہیں، اس کے باوجود عوام سے یہ رقم وصول کی جارہی ہے۔ انہوں نے مقامی اور ریفائن شدہ تیل کی قیمتوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے۔ پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو احتجاج مزید وسیع کیا جائے گا اور تمام آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مال روڈ پر احتجاجی مارچ کو 8 کلب تک لے جانے کا آپشن موجود ہے جبکہ مناسب وقت پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا جاسکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف ملا ہے اور دھرنوں میں عوام کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔








