LogoSaturday, October, 10, 2026

News Point PK

صحت کے شعبے میں 14 ماہ کا کام گزشتہ 30 سال سے بہتر ہے، مصطفیٰ کمال

صحت کے شعبے میں 14 ماہ کا کام گزشتہ 30 سال سے بہتر ہے، مصطفیٰ کمال

ویب ڈیسک

12-Sept-2026
|

تازہ ترین

صحت کے شعبے میں 14 ماہ کا کام گزشتہ 30 سال سے بہتر ہے، مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں حکومت کی جانب سے گزشتہ 14 ماہ کے دوران کیا جانے والا کام گزشتہ 30 سال کی کارکردگی سے بہتر ہے، پاکستان کو بیماریوں کے علاج سے آگے بڑھ کر بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقدہ 23ویں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن میں شرکت اور مختلف اسٹالز کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر نے ملکی و غیر ملکی نمائش کنندگان اور وفود سے ملاقاتیں کیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ایسا شعبہ ہے جس کی ضرورت دنیا کے قائم رہنے تک برقرار رہے گی۔ صحت صرف اسپتال، ڈاکٹر یا ادویات تک محدود نہیں بلکہ صاف پانی، ویکسینیشن، خاندانی منصوبہ بندی اور صحت مند طرزِ زندگی بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف بیماری کا علاج کرنے کے بجائے لوگوں کو بیمار ہونے سے روکنا ہوگا، کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہر گلی میں اسپتال بنانا ممکن نہیں۔ پاکستان کی آبادی تقریباً 26 کروڑ ہے اور سالانہ تقریباً 67 لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے، ایسے میں صحت کے موجودہ نظام پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ معمول کے حالات میں بھی مختلف بیماریوں کے باعث اسپتالوں پر غیر معمولی بوجھ ہے۔ ایک ڈاکٹر جسے 35 مریض دیکھنے چاہییں، بعض اوقات 350 مریضوں کا معائنہ کررہا ہے، اس کے باوجود مریضوں کی تعداد کم نہیں ہورہی۔

مصطفیٰ کمال نے صحت کو قومی سلامتی اور معاشی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سالانہ ہزاروں مائیں دورانِ زچگی جان سے محروم ہوجاتی ہیں، اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے بیماری کے علاج کے بجائے احتیاط اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طبی مشینری کا بڑا حصہ درآمد کیا جاتا ہے، تاہم مقامی سطح پر میڈیکل آلات کی تیاری کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ بعض ایسی مشینیں جو پہلے ڈیڑھ کروڑ روپے میں دستیاب ہوتی تھیں، اب 35 سے 40 لاکھ روپے میں تیار کی جارہی ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ روپے مالیت کی مشین مقامی طور پر تقریباً 10 لاکھ روپے میں تیار ہونے لگی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان ادویات تیار کرتا ہے تاہم ان کا خام مال بڑی حد تک بیرونِ ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق مقامی صنعت اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے ہیلتھ کیئر کے شعبے میں خود کفالت کی جانب پیش رفت جاری ہے۔

فارما اور ہیلتھ کیئر میں خودکفالت کی جانب پیش رفت

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان فارمیسی اور ہیلتھ کیئر کے شعبے میں تیزی سے خود کفالت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل چینی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والی کانفرنس میں 108 چینی کمپنیاں شریک ہوئیں، جبکہ 350 سے زائد پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ ان کا رابطہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر 65 کروڑ ڈالر سے زائد کے معاہدے جبکہ 1.2 ارب ڈالر کے ایم او یوز پر دستخط ہوئے، جو پاکستان کے ہیلتھ کیئر شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون کیلئے اہم پیش رفت ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ حکومت ’’سِک کیئر‘‘ سے ’’ہیلتھ کیئر‘‘ کی طرف منتقل ہونا چاہتی ہے، یعنی صرف اسپتال تعمیر کرکے مریضوں کا انتظار کرنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دی جائے گی۔

کراچی میں پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ شہر کے 80 فیصد گھروں تک پینے کا پانی براہِ راست نہیں پہنچ رہا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ٹینکرز کے ذریعے فراہم کیا جانے والا پانی کہاں سے آتا ہے اور شہریوں کو ان کا اپنا پانی ہی پیسوں کے عوض فراہم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کے ٹینکرز کا کاروبار ایک بڑے نظام کی شکل اختیار کرچکا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ کے فور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بھی اگر شہری ٹینکرز سے پانی لینے پر مجبور رہے تو مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔

وفاقی وزیر صحت نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ صحت کے شعبے میں حکومت کے 14 ماہ کا کام گزشتہ 30 برس کے کام سے بہتر ہے۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp