ایران میں حجاب پر اتنی سختی کیوں ،کیا حجاب مذہبی حکم ہے یا پھر ثقافتی روایت؟

ریسرچ ڈیسک
دین و دنیا

حجاب کے بارے میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آیا یہ صرف ثقافتی روایت ہے یا واقعی اسلام کا مذہبی حکم۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے اسلامی فقہ میں احکام کے بننے کے طریقہ کو دیکھنا ضروری ہے۔
اسلامی قانون عام طور پر چار بنیادی ذرائع سے اخذ کیا جاتا ہے:
قرآن
سنتِ نبوی ﷺ
اجماع (علماء کا اتفاق)
فقہی استدلال
اسی طریقہ کار کے ذریعے علماء نے حجاب کے حکم کو بھی سمجھا اور بیان کیا ہے۔
قرآن میں لفظ حجاب کا اصل معنی پردہ، رکاوٹ یا اوٹ ہے۔ یہ لفظ کئی مقامات پر آیا ہے جہاں اس سے مراد ایک ایسی دیوار یا پردہ ہے جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہو۔
وقت کے ساتھ یہ لفظ عام استعمال میں سر اور جسم ڈھانپنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
قرآن کی سورۃ النور آیت نمبر 31 میں مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ:
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جتنا (بدن کاحصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو ان کی ملکیت ہوں یامردوں میں سے وہ نوکر جو شہوت والے نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر اپنے پاؤں اس لئے زور سے نہ ماریں کہ ان کی اس زینت کا پتہ چل جائے جو انہوں نے چھپائی ہوئی ہے اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
یہ آیت اسلامی فقہ میں حجاب کے حکم کی بنیادی دلیل سمجھی جاتی ہے۔
علماء کے مطابق اس آیت میں لفظ خمار سر ڈھانپنے والی چادر کے لیے استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سر ڈھانپنا پہلے سے رائج تھا اور قرآن نے اسے سینے تک پھیلانے کا حکم دیا۔
احادیث اور صحابہ کے عمل کو قرآن کی وضاحت سمجھا جاتا ہے۔
روایات میں ذکر ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مدینہ کی خواتین نے فوراً اپنے کپڑوں سے خود کو ڈھانپ لیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ انہوں نے اس حکم کو اللہ کی ہدایت کے طور پر سمجھا۔
اسی طرح جلباب (ڈھیلا بیرونی لباس) کے متعلق احادیث میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان خواتین کو باہر نکلتے وقت اسے پہننا چاہیے تاکہ وقار اور حیا برقرار رہے۔
تاریخی طور پر عرب معاشرے میں سر ڈھانپنے کا رواج اسلام سے پہلے بھی موجود تھا۔
لیکن اسلامی تعلیمات نے اس روایت کو مذہبی حکم کی شکل دے دی۔
یعنی:
اصل اصول: جسم اور زینت کو ڈھانپنا
طریقہ: مختلف ثقافتوں میں مختلف ہو سکتا ہے
اس لیے لباس کے انداز، رنگ یا ڈیزائن ثقافت کے مطابق بدل سکتے ہیں، لیکن حیا اور پردے کا بنیادی اصول برقرار رہتا ہے۔

اسلامی فقہ میں ایک اہم دلیل اجماع یعنی علماء کا اتفاق بھی ہے۔
صدیوں سے مختلف فقہی مکاتب فکر کے علماء اس بات پر متفق رہے ہیں کہ مسلمان عورت کے لیے:
جسم کو ڈھانپنا
ڈھیلا اور غیر شفاف لباس پہننا
اسلامی حیا کے اصولوں کا حصہ ہے۔
ایران میں حجاب کا مسئلہ صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی مسئلہ بھی بن گیا ہے۔
1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی نے خواتین کے لیے حجاب کو لازمی قرار دیا۔
اہم نکات:
1979 میں خواتین کو کام کی جگہ پر حجاب پہننے کا حکم دیا گیا
1983 میں قانون کے ذریعے تمام خواتین کے لیے عوامی مقامات پر حجاب لازمی کر دیا گیا
قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ، قید یا کوڑے تک کی سزا رکھی گئی
اس فیصلے کے خلاف ایران میں کئی مرتبہ احتجاج بھی ہوئے، اور حالیہ برسوں میں خواتین نے اس قانون کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

حجاب کے بارے میں اسلامی علماء کی اکثریت کے مطابق:
یہ صرف ثقافتی روایت نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔
قرآن، سنت اور علماء کے اجماع سے اس کے اصول اخذ کیے گئے ہیں۔
تاہم اس کے لباس کا انداز مختلف ثقافتوں میں مختلف ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف کچھ ممالک میں حجاب مذہبی بحث کے ساتھ ساتھ سیاسی اور قانونی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
نمایاں خبریں