سید الشہدا ءحضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے کارنامے

جنید شیخ
دین و دنیا

سرزمین عرب میں طلوع اسلام کے بعد جن خوش نصیبوں کو دولت ایمان نصیب ہوئی ان میں ایک خوبرو ہستی وہ بھی ہیں جن کو سید الشہداء ، خیر الشہداء، اسد اللہ واسد الرسول ، کاشف الکربات، فاعل الخیرات حضرت سیدنا حمرہ بن عبد المطلب کہتے ہیں۔
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اہل عرب کے جوانمرد، بہادر، نڈر شہوار تھے آپ کا پسندیدہ مشغلہ سیر وسیاحت اور شکار کرنا تھا۔ اعلان نبوت کے چھٹے سال خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے تین دن پہلے دولت ایمان سے مالامال ہوئےاورآپ کے ایمان لانے کا سبب آپ کی اپنے بھتیجے سے والہانہ محبت وعقیدت تھی۔
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے خوبصورت پیشانی، درمیانہ قد، سرخ و سفید رنگ اور چھریرا بدن تھا۔ آپ کی آواز گرجدار و بارعب تھی دشمن اسلام آپ سے ہمیشہ خوفزدہ رہتا تھا۔
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو بچپن سے ہی تیر اندازی، نیزہ بازی، پہلوانی اور شکار کا شوق تھا جب آپ نے اسلام قبول کیا تب بھی آپ شکار سے ہی لوٹے تھے اہل عرب آپ کی بہادری اور جرات مندی کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ وہ آپ کی دلیری و شجاعت سے متاثر ہوتے تھے۔
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ لشکر اسلام کے سب سے پہلے امیر لشکر بھی ہیں ہجرت کے چھ سات ماہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کے تجارتی قافلے پر چھاپہ مارنے کے لیے یہ لشکر روانہ کیا تھااس لشکر کی قیادت حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے کی تھی یہ لشکر کفارمکہ سے ٹکرایا ضرور تھا لیکن جنگ نہیں ہوئی تھی قبیلہ جہنیہ کے سردار نے بیچ بچاؤ کروایا تھا۔
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ کفار مکہ کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ شام جارہا ہے۔ آپ نے ڈیڑھ سو مہاجرین کے ساتھ چھاپہ مارنا تھا کیونکہ کفار مکہ مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاری کررہے تھے۔ اس کے لیے انہیں سرمایہ درکار تھا اس لشکر کے علمبردار بھی حضرت حمزہ تھے اس غزوہ کا نام ذی العشیرہ تھا۔
غزوہ بدر جسے ’’یوم الفرقان‘‘ بھی کہا جاتا ہے میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ایسے دادشجاعت وصول کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسداللہ واسدالرسول اللہ کا لقب عطا فرمایا۔
کفارمکہ نے خود اعتراف کیا کہ اس جنگ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ اسی شجاعت و بہادری کو دیکھتے ہوئے امام احمد رضارحمة اللہ علیہ کھتے ہیں:
ان کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیر غران سطوت پہ لاکھوں سلام
آپ جس طرف بھی جاتے کفار کے ٹکڑئے ٹکڑے کردیتے۔ آپ دونوں ہاتھوں سے تلوار چلاتے تھے اس غزوہ کا پہلا مقتول اسود مخزومی تھا جو کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا۔
غزوہ بنو قینقاع ہجرت کے 20 ماہ بعد ماہ شوال میں پیش آیا یہ یہودیوں کے ساتھ پہلا معرکہ تھا۔ اس لشکر کے علمبردار بھی سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ تھے۔
ہجرت کے تیسرے سال شوال میں کفارمکہ نے بھرپور تیاری کے ساتھ مدینہ منورہ پر چڑھائی کردی وہ غزوہ بدر میں شکست کا بدلہ لینا چاہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا لشکر تیار کیا اور دفاع کے لیے میدان میں اترے اس جنگ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے بھی شجاعت اور جراتمندی سے کفار کا مقابلہ کیا۔
شہادت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ
وحشی'' جو ایک حبشی غلام تھااور اس کا آقا جبیر بن مطعم اس سے وعدہ کر چکا تھا کہ تو اگر حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دے تومیں تجھ کو آزاد کر دوں گا وحشی ایک چٹان کے پیچھے چھپا ہوا تھااور حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں تھاجوں ہی آپ اس کے قریب پہنچے اس نے دور سے اپنا نیزہ پھینک کر مارا جو آپ کی ناف میں لگا۔ اور پشت کے پار ہو گیا۔ اس حال میں بھی حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اس کی طرف بڑھے مگر زخم کی تاب نہ لا کر گر پڑے اور شہادت سے سرفراز ہوگئے۔ (حیح بخاری حدیث نمبر 4072)
قبورِ شہداء کی زیارت:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہداء اُحد کی قبروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے ا ور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہما کا بھی یہی عمل رہا۔
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کی قبروں پر تشریف لے گئے تو ارشاد فرمایا کہ اﷲ ! تیرا رسول گواہ ہے کہ اس جماعت نے تیری رضا کی طلب میں جان دی ہے پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت تک جو مسلمان بھی ان شہیدوں کی قبروں پر زیارت کے لئے آئے گا اور ان کو سلام کریگا تو یہ شہداء کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے سلام کا جواب دیں گے۔
چنانچہ حضرت فاطمہ خزاعیہ رضی اﷲ عنہا کا بیان ہے کہ میں ایک دن احد کے میدان سے گزر رہی تھی حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا کہ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَاعَمَّ رَسُوْلِ اللہ (اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا !آپ پر سلام ہو) تو میرے کان میں یہ آواز آئی کہ وَعَلَیْکِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُاﷲ وَبَرَکَاتُہ۔
نمایاں خبریں