LogoSaturday, March, 21, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

زکوة دینا غریبوں کی مدد کا ایک ذریعہ ہے

زکوة دینا غریبوں کی مدد کا ایک ذریعہ ہے

جنید شیخ

15-Mar-2026
|

دین و دنیا

زکوة دینا غریبوں کی مدد کا ایک ذریعہ ہے

دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہےاس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہےجبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہےزکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافرہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیااور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔۔ زکوٰة کی ادائیگی سے مال بڑھتا ہے: وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِۚ-وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ۔ (سورہ روم آیت نمبر 39) اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دوکہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ الله کے یہاں نہ بڑھے گی اور جو تم خیرات دو الله کی رضا چاہتے ہوئے تو انھیں کے دونے ہیں۔ اس آیت ِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ اللہ کی راہ میں میں مال دینے سے بظاہر ہمیں کچھ مال کم ہوتا ہوا محسوس ہوتاہے لیکن اللہ پاک کے ارشاد سے معلوم ہوتاہے کہ زکوٰة کی ادائیگی سے درحقیقت مال میں اضافہ ہوتا ہے کمی نہیں ہوتی۔ احادیث میں زکوٰة کا حکم: احادیث ِ کریمہ میں بھی آقائے نامدار تاجدار ِ مدینہ سرکار ِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو زکوٰةادا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ایک حدیث میں فرمایا: جس شخص نے اپنے مال کی زکوٰة ادا کردی، اس نے اس کے شر کو دور کردیا۔ (کنز العمال) ایک اور حدیث میں ہے کہ:ترجمہ: جب کوئی قوم زکوٰة ادا نہیں کرتی، تو اللہ تعالیٰ ان پر قحط سالی مسلط فرمادیتا ہے۔ (المعجم الاوسط: ۴۵۷۷) زکوة ادا کرنے کے فضائل و فوائد 1.زکوٰۃ دینا تکمیل ِایمان کا ذریعہ ہے۔ 2. زکوۃ دینے والے پر رحمتِ الہٰی کی چھماچھم برسات ہوتی ہے۔ 3. زکوٰۃ دینے سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے ۔ 4.زکوٰۃ دینے والا کامیاب لوگوں کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے ۔ 5.زکوۃادا کرنا اللہ کے گھروں یعنی مساجد کو آباد کرنے والوں کی صفات میں سے ہے۔ 6.زکوٰۃ کی ادائیگی سے غریب اسلامی بھائیوں کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور ان کے دل میں خوشی داخل ہوتی ہے ۔ 7. زکوٰۃ دینے کا عمل اخوت ِ اسلامی کی بہترین تعبیر ہے کہ ایک غنی مسلمان اپنے غریب اسلامی بھائی کو زکوۃ دے کر معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ مہیا کرتاہے ۔ 8.زکوٰۃمسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ مضبوط بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے جس سے اسلامی معاشرے میں اجتماعیت کو فروغ ملتا ہے۔ 9. زکوٰۃ دینے سے مال پاک ہوجاتا ہے ۔ 10.زکوٰۃ دینے والے کا مال کم نہیں ہوتا بلکہ دنیا وآخرت میں بڑھتا ہے ۔ 11. زکوٰۃ دینے سے لالچ وبخل جیسی بُری صفات سے (اگر دل میں ہوں تو)چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے اور سخاوت وبخشش کا محبوب وصف مل جاتا ہے ۔ 12.زکوٰۃ دینے والا شر سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ 13. زکوٰۃ دینا حفاظت ِ مال کا سبب ہے۔ 14.اللہ تعالیٰ زکوٰۃ دینے والوں کی حاجت روائی فرمائے گا۔ 15. غریبوں کی دعائیں ملتی ہیں۔ قرآن و حدیث کی انہی تاکیدات اور تصریحات کے پیشِ نظر فقہاء اور سلفِ صالحین کا زکوٰة کے فرض ہونے پر اجماع و اتفاق ہے۔ زکوٰة کے فرضیت کی حکمت: انسانی معاشرے میں کچھ لوگوں کا دولت مند ہونا اور کچھ کا غریب و ضرورت مند ہونا نظامِ قدرت اور تقاضہٴ فطرت ہے اس لیے ہر سماج کے لوگوں پرلازم ہے کہ اس کے خوش حال اور مال دار لوگ اپنے ضرورت مند اور غریب بھائیوں کی مدد اور ان کی ضروریات کی تکمیل کے لیے اپنی دولت کا کچھ حصہ اسی مقصد کے لیے نکالیں۔ کیوں کہ زکوٰة سماج کے غریب طبقہ کو تحفظ و ضمانت عطا کرتا ہے۔ آقائے نامدار تاجدارِ مدینہ سرکار ِدو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب فرمایا ہے کہ اگر تمام لوگ زکوٰة ادا کریں تو کسی کو غذا اور لباس سے محروم نہ ہونا پڑے۔ شکوة ادا نہ کرنے کا عذاب ’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، یا قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، یا جس طرح بھی قسم کھائی۔ کوئی آدمی ایسا نہیں جس کے پاس اونٹ یا گائیں یا بکریاں ہوں اور وہ ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ جانور اس طرح لائے جائیں گے کہ پہلے سے بہت بڑے اور موٹے تازہ ہوں گے۔ وہ اسے اپنے کُھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گے۔ جب آخری جانور بھی اس کے اوپر سے گزر جائے گا تو پہلا پھر آ جائے گا (اور یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا) یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (بخاری حدیث نمبر 1391) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے روز اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی، جس کے سر پر دو سیاہ نشان ہوں گے۔ قیامت کے روز اُسے اُس کا طوق پہنایا جائے گا، پھر وہ اس کے دونوں جبڑوں کو ڈسے گا، پھر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: (اور جو لوگ اس (مال و دولت) میں سے دینے میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا ہے وہ ہرگز اس بخل کو اپنے حق میں بہتر خیال نہ کریں، بلکہ یہ ان کے حق میں برا ہے، عنقریب روزِ قیامت انہیں (گلے میں) اس مال کا طوق پہنایا جائے گا)۔ (بخاری حدیث نمبر 1338) ایک مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:زکوۃ نہ دینے والا قیامت کے دن دوزخ میں ہوگا۔ (مجمع الزوائد حدیث نمبر 4337) زکوۃ نہ دینے والے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ۔ (صحیح ابن خزیمہ حدیث نمبر 2250) ایک اورمقام پر فرمایا:’’ جب لوگ زکوٰۃ کی ادا ئیگی چھوڑ دیتے ہیں تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ بارش کو روک دیتا ہے اگر زمین پر چوپا ئے مو جود نہ ہو تے تو آسمان سے پا نی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا ۔(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4019)

نمایاں خبریں