LogoSaturday, March, 21, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

شب قدر ہزار مہینوں سے افضل رات

شب قدر ہزار مہینوں سے افضل رات

حافظ مزمل قادری

16-Mar-2026
|

دین و دنیا

شب قدر ہزار مہینوں سے افضل رات

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے۔ اسی رات کو اللہ پاک نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہےشب قدر شرف و برکت والی رات ہے، اس کو شب قدر اس لئے کہتے ہیں کہ اس شب میں سال بھر کے احکام نافذ کئے جاتے ہیں اور فرشتوں کو سال بھر کے کاموں اورخدمات پر مامور کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رات کی دیگر راتوں پر شرافت و قدر کے باعث اس کو شب قدر کہتے ہیں اور یہ بھی منقول ہے کہ چونکہ اس شب میں نیک اعمال مقبول ہوتے ہیں اور بارگاہِ الہٰی میں ان کی قدر کی جاتی ہے اس لئے اس کو شبِ قدر کہتے ہیں ۔

مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’اس شب کو لیلۃ القدر چند وجوہ سے کہتے ہیں (۱) اس میں سال آئندہ کے امور ملائکہ کے سپرد کر دئیے جاتے ہیں۔ قدر بمعنی تقدیر یا قدر بمعنی عزت یعنی عزت والی رات۔ (۲)اس میں قدروالا قرآن پاک نازل ہوا۔ (۳)جو عبادت اس میں کی جائے اس کی قدر ہے۔ (۴)قدر بمعنی تنگی یعنی ملائکہ اس رات میں اس قدر آتے ہیں کہ زمین تنگ ہو جاتی ہے۔ ان وجوہ سے اسے شب قدر یعنی قدر والی رات کہتے ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اس رات(شب قدر) میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ پاک اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے ۔(بخاری حدیث نمبر 35)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان کا مہینہ آیا تو اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’بے شک تمہارے پاس یہ مہینہ آیا ہے اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،جوشخص اس رات سے محروم رہ گیا وہ تمام نیکیوں سے محروم رہا اور محروم وہی رہے گا جس کی قسمت میں محرومی ہے۔(ابن ماجہ حدیث نمبر 1644)

لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ یہ رات عبادت میں گزارے اور اس رات میں کثرت سے اِستغفار کرے جیسا کہ حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں :،میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے تو ا س رات میں میں کیا کہوں ؟ارشاد فرمایا: تم کہو ’’اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘اے اللہ!،بے شک تو معاف فرمانے والا،کرم کرنے والا ہے،تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔(ترمذی حدیث نمبر 3524)
نیزآپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ کونسی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس رات میں یہ دعا بکثرت مانگوں گی’’اے اللّٰہ میں تجھ سے مغفرت اور عافیت کا سوال کرتی ہوں ۔(مصنف ابن ابی شیبہ حدیث نمبر 8)

شبِ قدر سال میں ایک مرتبہ آتی ہے:
یاد رہے کہ سال بھر میں شبِ قدر ایک مرتبہ آتی ہے اور کثیر روایات سے ثابت ہے کہ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے اور اکثر اس کی بھی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک رمضان المبارک کی ستائیسویں رات شبِ قدر ہوتی ہے اور یہی حضرتِ امام اعظم رحمة اللہ علیہ سے مروی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جب شب قدر ہوتی ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں اور ہر اس کھڑے بیٹھے بندے کو دعائیں دیتے ہیں جو اللہ پاک کا ذکر کررہا ہو۔(شعب الایمان حدیث نمبر 3717)
علماء کا شب قدر کی تعین کے بارے میں اختلاف ہے لیکن اکثریت کی رائے یہی ہے کہ لیلۃ القدر کی رات ستائیسویں شب ہے۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شب قدر کی تعین کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ پاک کو طاق عدد پسند ہے اور طاق عددوں میں سے بھی سات کے عدد کو ترجیح حاصل ہے‘ کیونکہ اللہ تعالی اپنی کائنات کی تخلیق میں سات کے عدد کو نمایاں کیا ہے مثلاً سات آسمان‘ سات زمین‘ ہفتہ کے دن سات‘ طواف کے چکر سات وغیرہ۔ (تفسیر کبیر)

شب قدر کو مخفی کیوں رکھا گیا؟
اتنی اہم اور بابرکت رات کے مخفی ہونے کی متعدد حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
1. دیگر اہم مخفی امور مثلاً اسم اعظم‘ جمعہ کے روز قبولیت دعا کی گھڑی کی طرح اس رات کو بھی مخفی رکھا گیا۔
2. اگر اسے مخفی نہ رکھا جاتا تو عمل کی راہ مسدود ہو جاتی اور اسی رات کے عمل پر اکتفا کر لیا جاتا، ذوق عبادت میں دوام کی خاطر اس کو آشکار نہیں کیا گیا۔
3. اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کسی انسان کی وہ رات رہ جاتی تو شاید اس کے صدمے کا ازالہ ممکن نہ ہوتا۔
4. اللہ پاک کو چونکہ اپنے بندوں کا رات کے اوقات میں جاگنا اور بیدار رہنا محبوب ہے اس لئے رات تعین نہ فرمائی تاکہ اس کی تلاش میں متعدد راتیں عبادت میں گزریں۔
5. عدم تعین کی وجہ سے گنہگاروں پر شفقت بھی ہےکیونکہ اگر علم کے باوجود اس رات میں گناہ سرزد ہوتا تو اس سے لیلۃ القدر کی عظمت مجروح کرنے کا جرم بھی لکھا جاتا۔

ایک جھگڑا علم شب قدر سے محرومی کا سبب بنا:
ایک نہایت اہم وجہ اس کے مخفی کر دینے کی جھگڑا بھی ہے ‘ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں موجود ہے کہ اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیاکہ آپ اس رات کی تعین کی بارے میں اپنی امت کو آگاہ فرما دیں کہ یہ فلاں رات ہے لیکن دو آدمیوں کے جھگڑے کی وجہ سے بتلانے سے منع فرما دیا روایت کے الفاظ یوں ہیں
ایک مرتبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شب قدر کی تعین کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے لیکن راستہ میں دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھےحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے بارے میں اطلاع دینے آیا تھامگر فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے اس کی تعین اٹھا لی گئی۔(بخاری حدیث نمبر 2023)

اس روایت نے یہ بھی واضح کر دیا کہ لڑائی جھگڑے کی وجہ سے انسان اللہ پاک کی بہت سی نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امت برکتوں اور سعادتوں سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ مذکورہ روایت سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ شاید اس کے بعد تعین شب قدر کا آپ کو علم نہ رہا۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں کیونکہ شارحین حدیث نے تصریح کر دی ہے کہ تعین کا علم جو اٹھا لیا گیا تھا تو صرف اسی ایک سال کی بات تھی‘ ہمیشہ کے لئے نہیں۔

نمایاں خبریں