LogoSaturday, March, 21, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

فاتح خیبر مولا علی مشکل کشا رضی اللہ عنہ کی مثالی زندگی

فاتح خیبر مولا علی مشکل کشا رضی اللہ عنہ کی مثالی زندگی

حافظ مزمل قادری

10-Mar-2026
|

دین و دنیا

فاتح خیبر مولا علی مشکل کشا رضی اللہ عنہ کی مثالی زندگی

خلیفہ چہارم فاتح خیبر مولا مشکل کشا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک قول کے مطابق 10سال کی عمر میں اسلام قبول کرکے بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف پایا اور بچپن سے لے کر رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ظاہری وصال فرمانے تک سفر و حضر میں حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ رہے اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں کو دل و جان سے اپنایا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں میں سنت کو زیادہ جاننے والے ہیں۔

حضرت مولا علی رضٰی اللہ عنہ علم و حکمت کا دروازہ :
مولا علی مشکل کشا شیرِ خدا رضی اللہ عنہ علمی اعتبار سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اور کیوں نہ رکھتے ہوں کہ خود نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کی علمی شان بیان کرتے ہوئے آپ کو علم و حکمت کا دروازہ فرمایا ہے ۔

فرمان آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم
1.میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔(مستدرک للحاکم حدیث نمبر 3744)
2.میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔(ترمذی حدیث نمبر3744)

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا علمی مقام و مرتبہ، اُن کی قرآن فہمی، حقیقت شناسی اور فقہی صلاحیت تمام اولین و آخرین میں ممتاز و منفرد تھی۔ قدرت نے انہیں عقل و فہم کی اس قدر ارفع و اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا کہ جو مسائل دوسرے حضرات کے نزدیک پیچیدہ اور لاینحل سمجھے جاتے تھے، انہی مسائل کو وہ آسانی سے حل کردیتے تھے۔ اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے اوقات سے پناہ مانگتے تھے کہ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آجائے اور اس کے حل کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود نہ ہوں چنانچہ

حضرت سیِدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ حج کے لیے تشریف لے گئے ، آپ نے طواف کعبہ کرتے ہوئے حجر اسود کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تُو صرف ایک پتھر ہے جو نہ تو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان اور اگر میں نے دو عالم کے مالِک و مختارصلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی کبھی تجھے نہ چومتا۔ پھر آپ نے اسے بوسہ دیا۔ یہ سن کر مولا علی شیرِخدا رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:اے امیر المومنین! بے شک یہ پتھر نفع بھی دیتا ہے اور نقصان بھی فرمایا:وہ کیسے؟عرض کیا:بے شک میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ میں نے رسول اکرم نورمجسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ کل بروزِ قیامت حجر اسود کو لایا جائے گا اس حال میں کہ اس کی ایک زبان ہوگی جس کے ذریعے وہ گواہی دے گا کہ فلاں شخص نے اسے ایمان کی حالت میں بوسا دیا ہے۔اے امیر المومنین!یہی اس کا نقصان اور نفع دینا ہے۔یہ سن کر امیر المومنین حضرت سیِدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:اے ابوالحسن! میں اللہ پاک سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسی قوم میں رہوں جس میں آپ نہ ہوں۔ (شعب الایمان حدیث نمبر 4040)

سبحنَ اللہ!امیر المؤمنین حضرت سیِدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کیا کہنے!آپ خلیفۂ ثانی، تمام اہل ایمان کے امیر، فاتح ایران ورُوم، جن کے نام کی ہیبت سے سارا کفر لرزتاتھا،جن کے سائے سے بھی ابلیس لعین بھاگتاتھا،جن کو بارگاہِ رسالت سے ”مُحَدَّثْ“ یعنی اِلہامی باتیں کرنے والے کا خطاب ملا، جن کو بارگاہِ رسالت سے ’’فاروق‘‘ کا لقب عطا ہوا، جن کی تائید میں قرآن پاک کی کئی آیات نازل ہوئیں، جن کو سب سے پہلے مسلمانوں نے ”امیر المؤمنین“ پکارا،ایسی جلیلُ القدر ہستی کے دل میں اپنے رسولِ بَرحق، حضور نبیٔ مکرم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی عظمت ومحبت کا کیا عالم تھاکہ آپ کے فیصلوں کی تائید تو قرآن کرتا ہے، لیکن آپ نے مولا علی شیر خدارضی اللہ عنہ کو اپنی عدالتوں کا خصوصی جج اور اپنا معاونِ خصوصی بنایا تھا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: علم کے دس حصے ہیں، ان میں سے نو حصے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیے گئے اور دسویں حصے میں بھی وہ لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی بات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہوجاتی ہے تو ہم اسے چھوڑ کردوسری بات اختیار ہی نہیں کرتے۔ اکابر اور جید صحابہ کرام علیہم الرضوان مشکل و دقیق مسائل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔

ایک موقع پر اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ’’علی(رضی اللہ عنہ ) سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں‘‘

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ غزوۂ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے، ہر معرکے میں سیدنا حضرت علی رضی اللہ نے اپنی شجاعت و بہادری اور فداکاری کا لوہا منوایا بدر و اُحد، خندق و حنین اور خیبر میں اپنی جرأت و بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔ ہجرت کی شب حضور صلی اللہ علہ وسلم کے بستر مبارک پر آرام فرما ہوئے، اور آپ نے آخری وقت میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کے فرائض انجام دیے اور دیگر صحابہ کرام کے ہمراہ آپ کو ’’غُسلِ نبوی‘‘کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘ جیسے خوش نصیب صحابہ کرام میں بھی شامل ہیں جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت و خوش خبری دی اور خلافتِ راشدہ کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے، آپ رضی اللہ عنہ کو بچپن میں قبولِ اسلام کی سعادت نصیب ہوئی اور بچوں میں سے سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ ہی دولتِ ایمان سے منور ہوئے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں صحابہ کرام کے درمیان مواخات قائم فرمائی تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بے ساختہ رو دیے اور کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے صحابہ کرام کے درمیان مواخات کروائی، لیکن میری کسی کے ساتھ مواخات نہیں کرائی، تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم دنیا اورآخرت میں میرے بھائی ہو۔ (مشکوة حدیث نمبر 6093)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا، جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی ،اس نے رب العزت سے محبت کی او رجس نے علیؓ سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا اورجس نے مجھ سے بغض رکھا، اس نے اللہ رب العزت سے بغض رکھا ۔(معجم کبیر حدیث نمبر 901)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ میں عجز و انکساری نمایاں تھی، اپنے عہدِ خلافت میں بازاروں میں تشریف لے جاتے، وہاں جو لوگ راستہ بھولے ہوئے ہوتے انہیں راستہ بتاتے، بوجھ اٹھانے والوں کی مدد کرتے، تقویٰ اور خشیت الٰہی آپ رضی اللہ عنہ میں بہت زیادہ تھی ایک بار آپ رضی الہ عنہ ایک قبرستان میں بیٹھے تھے کہ کسی نے کہا ! اے ابو الحسن، یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ فرمایا، میں ان لوگوں کو بہت اچھا ہم نشین پاتا ہوں، یہ کسی کی بدگوئی نہیں کرتے اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں۔

حضرت علی کے فتوے پر عمل
صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو اگر کسی معاملے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فتوے کا علم ہوجاتا تو صحابۂ کرام علیہم الرضوان آپ کے فتوے پر عمل کیا کرتے تھے ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب کوئی معتبر شخص ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فتویٰ بتاتا تو ہم اُس سے تجاوز نہ کرتے۔ (طبقات ابن سعد)

مسائل میں حضرت علی کی طرف رجوع :
صحابۂ کرام بلکہ ام المؤمنین حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی مسائل کے حل کے لئے حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے پاس بھیجا کرتی تھیں۔ جیساکہ تابعی بُزرگ حضرت شریح بن ہانی رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ اس مسئلے کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ (مسلم حدیث نمبر 639)

حضرت علی اور علم میراث :
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اہلِ مدینہ میں علم میراث سب سے زیادہ جانتے تھے۔ (الاستیعاب)

تعدادِ روایات :
آپ رضی اللہ عنہ سے 586 احادیثِ مبارکہ مروی ہیں جو کتبِ احادیث میں اپنی خوشبوئیں بکھیر رہی ہیں۔
شہادت : سِن40ہجری میں17یا19رمضان کو فجر کی نماز کے لئے جاتے ہوئے راستے میں آپ رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں آپ شدید زخمی ہوگئے اور21رمضان کی رات کو جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ (طبقات ابن سعد)

نمایاں خبریں