LogoSaturday, March, 21, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

رمضان میں اعتکاف اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ

رمضان میں اعتکاف اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ

جنید شیخ

10-Mar-2026
|

دین و دنیا

رمضان میں اعتکاف اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ

رمضان المبارک میں جو عبادتیں خاص طور پر انجام پذیر ہوتی ہے ہیں، ان میں سے ایک اہم عبادت اعتکاف بھی ہے،، رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کا اعتکاف سنت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اعتکاف کی عبادت اس قدر محبوب تھی کہ آپ نے رمضان المبارک کے روزے کی فرضیت کے بعد اخیر عشرہ کا اعتکاف کبھی نہیں چھوڑا... ایک مرتبہ بعض اعذار کی وجہ سے سے چھوٹ گیا تو اگلے سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے بیس دن کا اعتکاف فرمایا... یہ عمل درحقیقت امت کو ترغیب دینے کے لیے اور اعتکاف کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے تھا۔

اعتکاف کا معنی :
اعتکاف کا معنی لغت میں ٹھہرنا ، جمے رہنا اور کسی مقام پر اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے ، شرعی اعتکاف بھی اسی معنی میں ہے کہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کےلئے مخصوص طریقے پر مسجد میں ٹھہرنا ۔

اعتکاف کی حکمت :
اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ ہر طرف سے یکسو ہو کر اور سب سے منقطع ہوکر بس اللہ تعالی سے لو لگاکے اس کے درپے یعنی مسجد کے کسی کونے میں پڑجائے ، سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اس کے ذکر و فکر میں مشغول رہے ، اس کو دھیان میں رکھے ، اس کی تسبیح و تہلیل و تقدیس میں مشغول رہے ، اس کے حضور توبہ و استغفار کرے ، اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر روئے ، اس کی رضا اور قرب چاہے اور اسی حال میں اس کے دن گزریں اور اس کی راتیں بسر ہوں ، ظاہر ہے اس کا م کےلئے رمضان المبارک اور خاص کر اس کے آخری عشرہ سے بہتر اور کون سا وقت ہوسکتا ہے ، اسی لئے اعتکاف کے لئے اس کا انتخاب کیا گیا ۔

ام المؤمنین بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ (یعنی آخری دس دن) کا اِعتکاف فرمایا کرتے۔ یہاں تک کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفاتِ(ظاہری) عطا فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں ۔ (بخاری حدیث نمبر2026)

فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’اعتکاف کی خوبیاں بالکل ہی ظاہرہیں کیونکہ اس میں بندہ اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کیلئے کلیۃ(یعنی مکمل طور پر ) اپنے آپ کواللہ پاک کی عبادت میں منہمک کر دیتا ہے اوران تمام مشاغل دنیا سے کنارہ کش ہوجاتاہے جو اللہ پاک کے قرب کی راہ میں حائل ہوتے ہیں اورمعتکف کے تمام اوقات حقیقۃ ًیا حکما ًنماز میں گزرتے ہیں ۔(کیونکہ نَماز کا انتظار کرنابھی نمازکی طرح ثواب رکھتاہے)اور اعتکاف کا مقصودِ اصلی جماعت کے ساتھ نماز کا انتظار کرناہے اورمعتکف ان(فرشتوں ) سے مشابہت رکھتاہے جواللہ پاک کےحکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو کچھ انہیں حکم ملتاہے اسے بجالاتے ہیں اور ان کے ساتھ مشابہت رکھتاہے جوشب و روزاللہ پاک کی تسبیح(پاکی) بیان کرتے رَہتے ہیں اوراس سے اکتاتے نہیں ۔

اعتکاف کے فضائل اور اجر وثواب بہت ہی زیادہ ہیں۔
عام دنوں میں بھی مساجد میں اعتکاف کیا جاسکتا ہے، اس کا بھی بڑا اجر ہے۔

ایک دن کے اعتکاف کی فضیلت:
فرمان آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم’’جو شخص اللہ پاک کی رِضا وخوشنودی کیلئے ایک دن کااعتکاف کرے گا اللہ پاک اس کے اورجہنّم کے درمیان تین خندقیں حائل کردے گا ہر خندق کی مسافت(یعنی دوری) مشرق ومغرب کے فاصلے سے بھی زیادہ ہوگی۔‘‘ (معجم اوسط حدیث نمبر7326)

سبحان اللہ! ایک دن کے اعتکاف کی فضیلت یہ ہے تو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی کیا فضیلت ہوگی ؟ خوش قسمت ہیں و ہ لوگ جورمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں.. دیگر اعتکاف کے بالمقابل رمضان المبارک میں کیا جانے والا سنت اعتکاف اپنے آپ میں بڑی عظمت، فضیلت اور اہمیت رکھتا ہے،،اس لیے کہ رمضان المبارک میں تمام اعمال کا اجر ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے. اعتکاف کی حالت میں شب قدر کو پانے اور اس میں عبادت کرنے کے مواقع و امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں.. اللہ تعالیٰ سے راز ونیاز اور تجلیات وانوار وبرکات سے دامن پر کرنے کا زیادہ موقع ملتا ہے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان میں دس دن کا اعتکاف کرلیاوہ ایسا ہے جیسے دوحج اوردوعمرے کئے۔ (شعب الایمان حدیث نمبر 3966)

حضرتِ سیِدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: ’’معتکف(یعنی اعتکاف کرنے والے کو) کو ہر روز ایک حج کا ثواب ملتاہے۔ (شعب الایمان حدیث نمبر 3968)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی اعتکاف کیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس آۓ اور کہا کہ آپ کو جس کی تلاش ہے وہ آگے ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے عشرہ کا بھی اعتکاف کیا اور ہم نے بھی کیا، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو بتایا کہ مطلوبہ رات ابھی آگے ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جومیرے ساتھ اعتکاف کر رہا تھا اسے چاہیے کہ وہ آخری عشرے کا اعتکاف بھی کرے مجھے شب قدر دکھائی گئی، جسے بعد میں بھلا دیا گیا اچھی طرح یاد رکھو! لیلہ القدر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں ہے ۔(بخاری شریف)

اعتکاف کی شرطیں :
1) مسلمان ہو : کافر و مشرک کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔
2) عاقل ہو : مجنون و پاگل کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔
3) تمیز ہو : غیر ممیز بچوں کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔
4) مسجد میں ہو : مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہ ہوگا ، یہ حکم مرد و عورت دونوں کیلئے ہے ۔
5) طہارت : حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔
6) شوہر کی اجازت : بغیر شوہر کی اجازت کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔
7) روزہ : بہت سے علماء کے نزدیک بغیر روزہ کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

اعتکاف کا وقت :
اعتکاف کے لئے ضروری ہے جس دن کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے اس دن کی رات آنے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے مثلا اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے تو بیسویں رمضان کا سورج غروب ہونے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے۔۔

اعتکاف سے نکلنے کا وقت :
اعتکاف سے باہر آنے کا ایک وقت جواز کا ہے اور دوسرا استحباب کا ، جواز کا وقت یہ ہے کہ اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کیا ہے تو شوال کا چاند نکلتے ہی اپنا اعتکاف ختم دے اور گھر واپس آجائے کیونکہ شوال کا چاند دکھائی دیتے ہیں رمضان کا مہینہ ختم ہوجاتا ہے ، اور مستحب وقت یہ ہے کہ عید کی صبح کو اپنی جائے اعتکاف سے باہر آئے اور سیدھے عیدگاہ جائے ، بعض صحابہ و تابعین کا عمل یہی رہا ہے چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بعض اہل علم کو دیکھا ہے کہ جب وہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تو اپنے گھر عید کی نماز پڑھ لینے کے بعد آتے۔

اعتکاف کس مسجد میں :
اعتکاف ہر مسجد میں کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس میں جماعت کا اہتمام ہوتا ہو۔۔

اللہ تعالٰیٰ کی قربت و رضا کے حصول کے لیے گزشتہ امتوں نے نفلی طور پر بعض ایسی ریاضتیں اپنے اوپر لازم کر لی تھیں، جو اللہ نے ان پر فرض نہیں کی تھیں۔ قرآن حکیم نے ان عبادت گزار گروہوں کو ’’رہبان‘‘ اور ’’احبار‘‘ سے موسوم کیا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تقرب الی اللہ کے لیے اپنی اُمت کے لیے اعلیٰ ترین اور آسان ترین طریقہ عطا فرمایا، جو ظاہری خلوت کی بجائے باطنی خلوت کے تصور پر مبنی ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے دنیا کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کی محبت کو دل سے نکال دینا اصل کمال ہے۔یہ مقصد اعتکاف کے ذریعے کامل ومکمل شکل میں پورا ہوتا ہے..

نمایاں خبریں