LogoSaturday, July, 11, 2026

News Point PK

نسلہ ٹاور فیصلہ: آئینی حدود کی نئی تشریح

نسلہ ٹاور فیصلہ: آئینی حدود کی نئی تشریح

سلیم عشرت

11-Jul-2026
|

خاص خبریں

نسلہ ٹاور فیصلہ: آئینی حدود کی نئی تشریح

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو محض کسی ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ریاستی اداروں کے اختیارات، آئینی اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے بارے میں نئی بحث کا آغاز کر دیتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے کراچی کے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے احکامات واپس لینا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے، جس نے نہ صرف ایک پرانے اور متنازع مقدمے کو نئی قانونی جہت دی ہے بلکہ عدلیہ، انتظامیہ اور شہری حقوق کے باہمی تعلق پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

نسلہ ٹاور کا مقدمہ ابتدا ہی سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ سپریم کورٹ نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور سرکاری اراضی پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران اس عمارت کو غیر

قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعدازاں اس فیصلے پر عمل

درآمد ہوا، عمارت زمین بوس کر دی گئی اور اس کے ساتھ ہی درجنوں خاندان اپنے گھروں اور زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔

اگرچہ عدالت نے متاثرین کو معاوضہ دینے کا حکم بھی دیا تھا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کسی بھی خاندان کے

لیے اس کا گھر صرف اینٹوں اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے وابستہ یادیں، مستقبل کی امیدیں اور معاشی تحفظ بھی اسی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ نسلہ ٹاور کا معاملہ ابتدا ہی سے صرف ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بھی سمجھا جاتا رہا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں اس مقدمے کو ایک نئے زاویے سے دیکھا ہے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا بنیادی اختیار متعلقہ صوبائی حکومت اور انتظامی اداروں کے پاس ہے، جبکہ عدالتوں کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے سامنے موجود تنازع کو آئین اور قانون کے مطابق حل کریں۔ اگر عدالتیں مقدمے کی حدود

سے آگے بڑھ کر ایسے عمومی احکامات جاری کریں جو انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آتے ہوں تو اختیارات کی وہ آئینی تقسیم متاثر ہوتی ہے جو جمہوری نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو "منصفانہ قانونی کارروائی" کے اصول پر دیا گیا زور ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی شہری کے جان و مال یا ملکیتی حقوق کو متاثر کرنے سے پہلے قانون کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا ناگزیر ہے۔

صرف انتظامی رپورٹس یا سرکاری دعوؤں کی بنیاد پر ایسا فیصلہ نہیں دیا جا سکتا جس کے نتیجے میں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔ آئین ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی کارروائی سے پہلے اسے مکمل سماعت کا موقع ملے، اس کا مؤقف سنا جائے اور فیصلہ قانون کے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق کیا جائے۔ یہی وہ اصول ہے جو کسی بھی مہذب اور

آئینی ریاست کی پہچان ہوتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال بھی اپنی پوری اہمیت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اگر نسلہ ٹاور واقعی غیر قانونی تعمیر تھا تو اس کی ذمہ داری صرف تعمیر کنندہ یا رہائشیوں پر کیسے عائد کی جا سکتی ہے؟ ایک بلند و بالا عمارت برسوں میں تعمیر ہوتی ہے۔ اس دوران نقشے منظور ہوتے ہیں، این او سی جاری کیے جاتے ہیں، لیز دی جاتی ہے، تعمیر کے مختلف مراحل کی نگرانی ہوتی ہے اور متعدد سرکاری ادارے اپنی منظوری دیتے ہیں۔

اگر ان تمام مراحل میں کسی قسم کی بے ضابطگی موجود تھی تو متعلقہ ادارے اس وقت خاموش کیوں رہے؟ اگر

سرکاری افسران نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں تو ان کا احتساب کیوں نہ ہوا؟ یہ

ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ایک عدالتی فیصلے سے نہیں بلکہ مؤثر انتظامی

اصلاحات سے دیا جا سکتا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری زمینوں پر قبضے، پارکوں اور گرین بیلٹس پر تجاوزات، غیر قانونی کمرشل سرگرمیاں اور بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان کے خلاف کارروائی ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ

داری ہے۔ تاہم قانون پر عمل درآمد اسی صورت مؤثر اور دیرپا ثابت ہو سکتا ہے جب اس کا آغاز ابتدا ہی سے ہو۔ اگر متعلقہ ادارے تعمیر کے آغاز پر ہی اپنی ذمہ داریاں

پوری کریں، نقشوں کی منظوری شفاف انداز میں دیں، بدعنوانی کا راستہ روکیں اور غیر قانونی تعمیرات کو بروقت روک دیں تو بعد میں کسی عمارت کو گرانے اور بے گناہ شہریوں کو مشکلات میں ڈالنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ کے اضافی نوٹ کی بھی خاص اہمیت ہے، جس

میں انہوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، فٹ پاتھ، ساحلی علاقے اور دیگر عوامی مقامات کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس سے یہ

واضح ہوتا ہے کہ عدالت نے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کے اصول کو مسترد نہیں کیا بلکہ صرف اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسی کارروائی آئین، قانون اور منصفانہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔

اس فیصلے نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ قانون کی حکمرانی کا مطلب صرف سخت فیصلے صادر کرنا نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے جدا ہیں اور ہر ادارے کی قوت اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب وہ اپنی

آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرے۔ عدلیہ انصاف فراہم کرے، انتظامیہ قانون نافذ

کرے اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے انجام دیں، یہی وہ توازن ہے جو آئین کا بنیادی تقاضا ہے۔

نسلہ ٹاور آجںایک منہدم عمارت کا نام ضرور ہے، لیکن اس کا مقدمہ پاکستان کے قانونی اور انتظامی نظام کے لیے کئی اہم سبق چھوڑ گیا ہے۔ اس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام صرف عدالتی فیصلوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک ایسا انتظامی نظام درکار ہے جو شفاف، جواب دہ اور قانون کا پابند ہو۔ اسی طرح شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی اسی وقت ممکن ہے جب ریاست خود اپنے طے کردہ آئینی اور

قانونی اصولوں کی پابند رہے۔

وفاقی آئینی عدالت کا یہ فیصلہ مستقبل میں عدالتی نظائر، انتظامی قانون اور شہری حقوق کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب ذمہ داری حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس فیصلے کو محض ایک عدالتی حکم نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنے نظامِ

حکمرانی کی اصلاح کا موقع بنائیں، تاکہ آئندہ کسی نسلہ ٹاور جیسے سانحے کی نوبت نہ آئے، شہریوں کا ریاست پر اعتماد مضبوط ہو اور قانون کی بالادستی صرف عدالتوں کے فیصلوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی نمایاں نظر آئے-

نیوز پوائنٹ پر شائع ہونے والے مضامین کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔(ادارہ)

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp