LogoTuesday, June, 2, 2026

News Point PK

گلگت بلتستان میں عوامی اجتماع، نواز شریف کے بڑے اعلانات اور عوام سے شکوہ

گلگت بلتستان میں عوامی اجتماع، نواز شریف کے بڑے اعلانات اور عوام سے شکوہ

ویب ڈیسک

02-Jun-2026
|

تازہ ترین

گلگت بلتستان میں عوامی اجتماع، نواز شریف کے بڑے اعلانات اور عوام سے شکوہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے ، جہاں وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، سابق وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر پارٹی راہنمائوں نے پارٹی صدر کا استقبال کیا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کے دورہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمن، کاظم پیرزادہ بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

میاں نواز شریف نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دیا جائے، اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا، ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا، طلبہ کو اسکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔

نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20، 0 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو میں ہر دوسرے، تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور چاہوں گا کہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں ان کی تکمیل ہوتے ہوئے دیکھوں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کہا جا رہا ہے کہ ہمیں این ایف سی سے حصہ ملنا چاہیے، ہم نے اس سلسلے میں 2017 میں ایک کمیٹی بنائی تھی، اس کے بعد ہمیں نکال دیا گیا، اس وقت کمیٹی نے سفارشات مرتب کیں تھیں جنہیں ہم نے عملی جامہ پہنانا تھا، اس کا مطلب یہ کام اسوقت ہوگیا ہوتا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔

نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔

انہوں نے پوچھا کہ مانسہرہ سے گلگت تک روڈ بننی تھی، کیوں نہیں بنی، مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ گلگت کی سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔

انہوں نے کہا میں وہ نوا زشریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقیدکرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، میرا دل روتا ہےکہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں اسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا دیامر بھاشا ڈیم بنانے کے لیے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے زمین کے لیے دیا تھا، زمین تو ہے لیکن دیامر بھاشا ڈیم نہیں بنا، 2015 میں 100 ارب دینے کے باوجود ڈیم اب تک نہیں بنا، ڈیم بننے کا فائدہ آپ کو اور باقی پاکستان کو بھی ہوتا، ہماری حکومت ہوتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔

صدر مسلم لیگ ن محمد نواز شریف اپنے دورے کے دوران پارٹی راہنمائوں اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں حصہ لینے والے پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں کریں گے۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp