سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے حالیہ بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی تاریخ اور سانحات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے ردعمل میں شرجیل میمن نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق سیاسی دیوالیہ پن اور اخلاقی افلاس کا شکار ہو چکے ہیں اور طنزیہ جملوں سے نہ تاریخ تبدیل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی عوامی رائے پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک نہایت دردناک باب ہے، جس کے زخم آج بھی قوم کے دلوں میں تازہ ہیں۔ ایسے قومی المیے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا انتہائی افسوسناک اور قومی یکجہتی کے منافی عمل ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اگر خواجہ سعد رفیق سقوطِ ڈھاکہ کے ذمہ داروں کا تعین کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پہلے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) آج بھی ایٹمی دھماکوں کو اپنی کامیابی قرار دیتی ہے، جبکہ اس پروگرام کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹو خاندان کی خدمات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا روشن باب ہیں، جنہیں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
سینئر صوبائی وزیر نے شہید بے نظیر بھٹو کو جمہوریت، عوامی حقوق اور جرات کی عالمی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو خاندان پر سیاسی تنقید کی آڑ میں قومی تاریخ کو متنازع بنانا مناسب طرزِ عمل نہیں۔
شرجیل میمن نے خواجہ سعد رفیق کے "زنگ آلود تیر" والے بیان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو چاہیے کہ وہ ماضی کے تلخ قومی سانحات کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے اتحاد، برداشت اور مثبت سیاست کو فروغ دے، کیونکہ پاکستان کو اس وقت نفرت انگیز بیانیے نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔








