حکومت کی جانب سے مطالبات پر پیش رفت اور تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پیٹرول پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں یومیہ بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین، ڈیلرز مارجن اور دیگر اہم مطالبات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حکومت نے ایسوسی ایشن کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم حکومت ان مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اربوں روپے کی سبسڈی فراہم کی، لیکن خطے میں ایک بار پھر کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اس کے باوجود حکومت دستیاب گنجائش کے مطابق صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ ڈیلرز مارجن اور دیگر معاملات پر اوگرا اور پیٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ تفصیلی اجلاس منعقد کیا جائے گا، جبکہ ڈیلرز کے مارجن سے متعلق سمری بھی وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران یہ مسائل حل کر لیے جائیں گے۔
علی پرویز ملک نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل خطے میں امن اور جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں، اور دعا ہے کہ ان کی کاوشیں کامیاب ہوں۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم پمپ آنرز ایسوسی ایشن کے صدر ندیم عزیز نے کہا کہ حکومت نے مطالبات پر تحریری یقین دہانی کرائی ہے، جس کے بعد کل کی مجوزہ ہڑتال مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یومیہ قیمتوں کے تعین کے نظام پر بھی حکومت کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے رہنما راجہ وسیم کا کہنا تھا کہ شدید مشکلات کے باعث ہڑتال کا فیصلہ کرنا پڑا، تاہم حکومت کی سنجیدگی اور مذاکرات کے بعد امید ہے کہ آئندہ دو ہفتوں میں ڈیلرز کے مسائل کا قابلِ قبول حل سامنے آ جائے گا۔








