نیو جرسی: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے اختتام پر فٹبال کا میدان جذبات سے بھرپور مناظر کا گواہ بن گیا، جہاں اسپین کی تاریخی فتح کے ساتھ ارجنٹائن کے خواب بکھر گئے اور لیونل میسی سمیت کئی کھلاڑی اپنے آنسو نہ روک سکے۔
اضافی وقت کے 106ویں منٹ میں فیران ٹوریس کے فیصلہ کن گول نے اسپین کو عالمی چیمپئن بنا دیا، جبکہ آخری سیٹی بجتے ہی ارجنٹائن کے کھلاڑی مایوسی سے میدان میں بیٹھ گئے۔ کئی کھلاڑی غم سے نڈھال دکھائی دیے اور کپتان لیونل میسی خاموشی سے سر جھکائے میدان میں کھڑے رہے۔
چند روز قبل سیمی فائنل میں جشن منانے والی ارجنٹائن کی ٹیم اس بار خاموش تھی۔ مسلسل دوسری مرتبہ عالمی اعزاز جیتنے کی امید صرف ایک لمحے میں ٹوٹ گئی اور عالمی ٹرافی ایک بار پھر ہاتھ سے نکل گئی۔
میسی کو ساتھی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف نے حوصلہ دینے کی کوشش کی، مگر ان کے چہرے پر شکست کی تکلیف اور برسوں کی محنت کا درد نمایاں تھا۔ فٹبال شائقین کے لیے یہ منظر اس لیے بھی جذباتی تھا کہ اسے لیونل میسی کے ممکنہ آخری ورلڈ کپ میچ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار بھی ارجنٹائن کی مشکلات کی عکاسی کرتے ہیں۔ پوری ٹیم مقررہ وقت میں ہدف پر ایک بھی شاٹ نہ لگا سکی اور مجموعی طور پر صرف تین حملے کر پائی، جبکہ اسپین نے مسلسل دباؤ برقرار رکھتے ہوئے 20 حملے کیے اور بالآخر اضافی وقت میں کامیابی اپنے نام کر لی۔
یہ رات اسپین کے لیے سنہری تاریخ بن گئی، لیکن ارجنٹائن اور خاص طور پر لیونل میسی کے کروڑوں مداحوں کے لیے یہ ایک ایسی شکست بن گئی، جس کی یاد طویل عرصے تک دلوں میں تازہ رہے گی۔








