کیا نیند ذہنی صحت کا گمشدہ حصہ ہے؟

ریسرچ ڈیسک
صحت

اگر آپ نے کبھی رات کو اچھی طرح نیند نہ لی ہو تو اگلے دن آپ نے ضرور محسوس کیا ہوگا کہ ہر کام مشکل لگ رہا ہے۔ موڈ خراب ہو جاتا ہے، صبر کم ہو جاتا ہے اور سوچنے کی صلاحیت بھی کمزور محسوس ہوتی ہے۔
یہ صرف احساس نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ تحقیق کے مطابق نیند ہمارے جذبات، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ زندگی کے کاموں پر گہرا اثر ڈالتی ہے
نیند اور ذہنی صحت کے درمیان ایک دو طرفہ تعلق موجود ہے۔
خراب نیند ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔
دوسری طرف ذہنی دباؤ یا ذہنی بیماریاں بھی نیند کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی خرابی بعض اوقات ذہنی مسائل کی پہلی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

دماغ میں دو اہم نظام ہوتے ہیں: 01)نیند پیدا کرنے والا نظام, 02)جاگنے والا نظام
بعض اوقات جاگنے والا نظام زیادہ فعال ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان تھکا ہوا ہونے کے باوجود بھی سو نہیں پاتا۔ اسی وجہ سے کچھ لوگ بستر پر لیٹنے کے بعد بھی گھنٹوں جاگتے رہتے ہیں۔
نیند صرف آرام نہیں بلکہ دماغ کی مرمت اور بحالی کا وقت بھی ہوتی ہے۔ اچھی نیند نہ ہونے سے کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
01-توجہ اور یادداشت کمزور ہونا
02-موڈ میں تبدیلی اور چڑچڑاپن
03-بے چینی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ
04-فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہونا
تحقیقات کے مطابق نیند دماغ کو معلومات کو محفوظ کرنے اور جذبات کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بہتر نیند کے لیے چند عادات اپنانا ضروری ہے:
بستر پر موبائل استعمال کرنا، کام کرنا یا ٹی وی دیکھنا نیند کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔
یہ جسم کی اندرونی گھڑی (Body Clock) کو متوازن رکھتا ہے۔
دن کی نیند رات کی نیند کو متاثر کر سکتی ہے۔
ہلکی روشنی، خاموشی اور سکون نیند کو بہتر بناتے ہیں۔
زیادہ تر لوگ صحت کے بارے میں بات کرتے وقت خوراک اور ورزش کو اہم سمجھتے ہیں، لیکن نیند کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھی نیند دماغی صحت، جذباتی توازن اور مجموعی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اگر ہم اپنی نیند کو بہتر بنائیں تو یہ نہ صرف ہماری ذہنی حالت کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کے معیار کو بھی نمایاں طور پر بہتر کر سکتی ہے۔
نمایاں خبریں