ڈاکٹر فہمیدہ لغاری مبینہ خودکشی کیس، والد اور بہن کے بیانات قلمبند، سماعت 8 جولائی تک ملتوی

نمائندہ نیوز پوائنٹ
پاکستان

میرپورخاص میں میڈیکل کی طالبہ ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کی مبینہ خودکشی اور ہراسانی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے مقتولہ کے والد اور بہن مہک لغاری کے بیانات دفعہ 164 کے تحت قلمبند کرلیے، جبکہ مزید سماعت 8 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ و فیملی کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران گرفتار ملزم عابد لغاری، جبکہ ضمانت پر رہا نجی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ظفر تنویر، ڈاکٹر فرزانہ، میڈیکل کے طالب علم عبدالرحمن اور عبداللہ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر کامران ہالیپوٹو نے عدالت کو بتایا کہ کیس کی تکنیکی بنیادوں پر تفتیش جاری ہے اور رپورٹ مکمل کرنے کے لیے مزید مہلت درکار ہے، جس پر عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 8 جولائی تک ملتوی کردی۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کی بہن مہک لغاری نے کہا کہ ان کا خاندان انصاف کا منتظر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے تفتیش شفاف انداز میں مکمل ہوگی اور واقعے میں ملوث تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
مہک لغاری نے مزید کہا کہ ان کی بہن کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کا ازالہ صرف انصاف کی فراہمی سے ممکن ہے، اس لیے عدلیہ اور تفتیشی اداروں سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کی توقع ہے۔
نمایاں خبریں
اے این ایف کا منشیات فروشوں کیخلاف شکنجہ، 316 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط، 5 ملزمان گرفتار

سردار تنویر الیاس پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفیٰ

پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں، سہیل آفریدی کی تبدیلی کی خبریں بے بنیاد ہیں ،بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: بلاول بھٹو کی زیر صدارت اہم اجلاس، آزاد کشمیر انتخابات کی حکمت عملی طے

لاہور کاہنہ نو میں المناک حادثہ، ٹیوشن پڑھتے بچوں پر چھت آ گری، 14 بچے زندگی کی بازی ہار گئے

Automate. Scale. Grow with Webrix.
Helping businesses grow digitally