LogoSaturday, April, 4, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حالات زندگی پر ایک نظر

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حالات زندگی پر ایک نظر

انوشہ محمود

06-Mar-2026
|

دین و دنیا

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حالات زندگی پر ایک نظر

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قریش کے خاندان بنو تیم سے تعلق رکھتی تھیں۔

آپ بعثت ِنبوی کے چار سال بعد ماہ شوال میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد، نبی کریم کے جاں نثار رفیق، افضل البشر بعدالانبیاء، خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکر صدیقؓ اوروالدہ ام رومان تھیں-

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں اپنے حسنِ اخلاق اور علم و فضل کے سبب خاص فضیلت اور منفرد مقام رکھتی ہیں۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے صرف احادیث ہی روایت نہیں کیں بلکہ آپ رضی اللہ عنہا فقیہہ، مفسرہ اور مجتہدہ اور حافظہ بھی تھیں۔

آپ کو مسلمان عورتوں میں سب سے بڑی فقیہہ جانا اور تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کا شمار مدینے کی ان چند علمی شخصیات میں ہوتا تھا جن کے فتوے پر لوگوں کو مکمل اعتماد تھا۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:تم تین راتیں مجھے خواب میں دکھائی گئیں ایک فرشتہ تمہیں (تمہاری تصویر) ریشم کے ایک ٹکڑے میں لے کر آیا اور اس نے کہا:یہ آپ کی زوجہ ہیں ان کا چہرہ کھولئے۔ پس میں نے دیکھا تو وہ تم تھیں میں نے کہا: اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کریگا۔ (حیح مسلم حدیث نمبر2438)

یوں چھ سال کی عمر میں بنت صدیق اکبر رضی اللہ عنہما کا نکاح حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ہوا۔ اور نکاح کے تین سال بعد نو سال کی عمر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی اور نو سال تک کاشانہ رسالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہیں۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا شمار ان برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے، جن کے کانوں نے کبھی کفرو شرک کی آواز نہیں سُنی۔

خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نہایت ذہین، بے حد فیاض، قوتِ حافظہ میں لاجواب، نہایت شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں۔
قرآن ،تفسیر،حدیث ،فقہ ،غرض کتاب و سنّت کےجملہ علوم ومسائل میں آپ کے گہرے شغف، معیارِ فکرو نظر، اور بلند علمی مقام کے اعتبار سے اربابِ سیرت نے اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جلیل القدر عالمہ و فاضلہ خاتون کے مرتبے پر فائز کیا ہے۔

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مبارک زندگی عفت و حیا، علمی کمال، اور فراست و فقاہت کے محاسن سے مزین تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ مزاج شناسِ رسول تھیں۔ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت تھی،غرض آپ میں وہ تمام خوبیاں تھیں، جو ایک مثالی بیوی میں ہونی چاہییں۔

قرآن کریم کی پہلی حافظہ کا اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ جمع قرآن کے سلسلے میں بھی فوقیت حاصل ہے۔

محدثین میں بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ بعض مورخین کا قول ہے کہ احکام شرعیہ کا ایک چوتھائی حصہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مردوں میں تو بہت سے لوگ کامل ہوئے، لیکن عورتوں میں کوئی کامل نہ گزرا، سوائے مریم بنتِ عمران اور آسیہ زوجہ فرعون، اور عائشہ کے، اور حضرت عائشہ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید (عربوں کا مرغوب ترین کھانا جو روٹی کو شوربے میں بھگو کر تیار کیا جاتا تھا) کو تمام کھانوں پرحاصل ہے۔ (صحیح بخاری)

گھر کی مالی حالت ایسی تھی کہ جو آتا سب راہ اللہ میں تقسیم کردیا جاتا جس کے نتیجہ میں گھر میں چولہا بہت کم جلتا تھا۔ مسلسل تین دن تک کبھی سیر ہوکر نہیں کھایا تھا۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنی محبت کی وجہ سے ہدایہ و تحائف بارگاہ رسالت میں پیش کرتے رہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زیادہ محبوب ہیں لہذا وہ ان کی باری کے منتظر رہتے تھے کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے جائیں تو بھیجیں۔

مقصد صرف اتنا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی اور خوش ہوں۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مبارک زندگی بے شمار فضیلتوں اور کمالات سے لبریز تھی -

آپ امت کی وہ ماں ہیں جن سے دینی علوم کے چشمے بہے ، اکابر صحابہ ان حیات بخش چشموں سے سیراب ہوئے، تابعین نے سیرت رسول کو ام المؤمنین سے سیکھا، محدثین نے آپ کی بیان کردہ روایات کو کتب حدیث میں درج کیا- فقہائے امت نے آپ سے علم الفقہ حاصل کیا-

سیرت نگاروں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے اخلاق و عادات سے متعلق روایات آپ ہی سے حاصل کیں۔ دنیاوی اعتبار سے حیات رسول کے آخری لمحات آپ ہی کی گود میں گزرے ،اور آپ ہی کا حجرہ روضہ رسول بنا ۔

اتنی فضیلتوں کے ساتھ ام المؤمنین کا سفر آخرت دنیا کو فیض نبو ت بانٹے ہوئے سترہ 17 رمضان المبارک منزل آشنا ہوا ۔

عظیم محدیث جلیل القدر صحابی رسول روایت حدیث میں سب پر سبقت لےجانے والے حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور حسبِ وصیت رات کے وَقْت جَنَّۃُ الْبَقِیْع میں آپ رضی اللہ عنہاکو سپردِ خاک کیا گیا-

بوقتِ وفات آپ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف 67 سال تھی۔

نمایاں خبریں