LogoSaturday, May, 9, 2026

News Point PK

ہم کریں آباد،تم کرو برباد ۔۔۔ کراچی کا نوحہ !!

ہم کریں آباد،تم کرو برباد ۔۔۔ کراچی کا نوحہ  !!

سید حمید افسر اشرفی

08-May-2026
|

خاص خبریں

ہم کریں آباد،تم کرو برباد ۔۔۔ کراچی کا نوحہ  !!

ملک کی تعمیر و ترقی ہر محب وطن کی آرزو ہے ،لیکن یہ کیا یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے،جی ہاں یہ حقیقت ہے کہ ملک کو برباد کرنے میں صرف کرپٹ حکمران اوربدعنوان سرکاری افسران ہی ملوث نہیں بلکہ عوام میں بھی ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو اپنے ہاتھوں سے ملک کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہی ہیں۔

ایک تو ویسے ہی ملک میں ترقیاتی منصوبوں کا فقد ان ہے،دعوئوں کے برعکس ترقی اور تعمیر کا سفر انتہائی سست ہے تو دوسری جانب جن منصوبوں کی منظوری دی گئی وہ بھی کرپشن کی نذر ہو گئے، کرپشن مافیا، کوالٹی اور معیار ہڑپ کر گئی،ظاہر ہے جن منصوبوں کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ اپنی ذاتی جیبیں بھرنا ہو تو وہاں معیاری کام کیسے ممکن ہے۔

سرکاری اداروں میں نچلی سطح کے کلر ک سے لے کر اعلیٰ افسران تک بدعنوانی کی کشتی میں سوار ہوں تو ان سے کسی خیر کی توقع فضول ہے،مزے کی بات تو یہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق سوال اٹھانے والا خود ہی مجرم قرار دے دیا جاتا ہے۔

حکمرانوں کا حال تو یہ ہے کہ جب کوئی صحافی بدعنوانی کی نشاندہی کرے تو اس کو کہتے ہیں کہ تم ہمارے مخالفین کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہو ،اسی لیے تو ہمارے کام میں کیڑے نکال رہے ہو،بھلا بتائیے اب آئینہ دکھانا بھی جرم بن گیا بقول شاعر ۔۔آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے۔

دور بدل گیا،سوشل میڈیا کے ذریعے ہر چیز عیاں ہو جاتی ہے،بدعنوانی اب چھپائی نہیں جا سکتی،ایک ہی بارش میں بہہ جانے والے منصوبے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خود گواہ ہیں،المیہ یہ ہے کہ ناقص مٹیریل سے تیار سڑکیں ہوں یا پل ،پارک ہو ں یا اسکول یا پھر کوئی سرکاری عمارت لوٹ مار کا پردہ چاک کر رہی ہیں،لیکن احتساب کرنے والے افراد خود اس ٹیم کا حصہ بن جاتے ہیں تو جرائم کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

گویا چور کا بھائی گرا کٹ، اکبر الہ آبادی نے شاید اسی موقع پر کہا تھا کہ۔ لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا، یعنی محکمہ اینٹی کرپشن اب فرینڈلی کرپشن بن گیا ، بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی،اوپر سے نیچے تک اوا ں کا اوا ں بگڑا ہوا ہے۔

پچھلے دنوں سوشل میڈیا کے ذریعے یہ ہوش ربا انکشاف ہوا کہ کراچی میں سرکاری تنصیبات کونقصان پہنچانے میں نشے کے عادی افراد اہم کردار ادا کر رہے ہیں،ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیرونچی پلوں کے نیچے سے سریا کاٹ رہے ہیں،اسی طرح بجلی کے پولوں پر چڑھ کر دن دیہاڑے لائٹیں اتاری جا رہی ہیں،گٹروں کے ڈھکن غائب کیے جا رہے ہیں،جسے پوچھنے والا کوئی نہیں،قوم کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ تماشہ سب دیکھ رہے ہیں مگر روکنے والا کوئی نہیں۔

پولیس جس کی ذمہ داری جرائم کا خاتمہ ہے لیکن وہ بھی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں،بظاہر معمولی نظر آنے والا یہ کام بڑی تباہی کا پیغام لا سکتا ہے،اب بھی کھلے ہوئے گٹروں میں گرنے اور گاڑیاں الٹنے کے واقعات عام ہیں،ایک تو ویسے ہی ترقیاتی منصوبے ناپید ہے،کوالٹی اور معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا ،معمولی بارش میں بڑے بڑے پروجیکٹ بہہ جاتے ہیں بقیہ رہی سہی کسر یہ ہیروئنچی پوری کر رہے ہیں،جس قوم کی بے حسی کا عالم یہ ہو کہ وہ برائی کو روکنے کے بجائے یہ کہہ کر آگے بڑھ جائے کہ (سانوں کی)تو اس کا مستقبل تاریکی کے سوا کچھ نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ برائی کو جڑ سے ختم کیا جائے،تمام ہیرو نچیوں کو شہر بدر کر کے ان کا علاج کرایا جائے،بیماری کی اصل وجہ یعنی منشیات کا پھیلاؤ روکا جائے،جب تک اس قسم کے سخت اقدامات نہیں کیے جاتے تو ملکی ترقی کا خواب ایک دیوانے کا خواب ہی رہے گا۔

نیوز پوائنٹ پر شائع ہونے والے مضامین کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔(ادارہ)

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp