LogoThursday, July, 2, 2026

News Point PK

سندھ ہائی کورٹ نے کسٹمز کیس کالعدم قرار دے دیا، ضبط شدہ ڈیزل اور آئل ٹینکرز واپس کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے کسٹمز کیس کالعدم قرار دے دیا، ضبط شدہ ڈیزل اور آئل ٹینکرز واپس کرنے کا حکم

ویب ڈیسک

29-Jun-2026
|

پاکستان

سندھ ہائی کورٹ نے کسٹمز کیس کالعدم قرار دے دیا، ضبط شدہ ڈیزل اور آئل ٹینکرز واپس کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے کسٹمز حکام کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات سے منسلک نجی کمپنیوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کا مقدمہ کالعدم قرار دے دیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت نے ضبط شدہ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور سیل کی گئی املاک درخواست گزاروں کے حوالے کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔ جسٹس سلیم جیسر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کیا۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کسٹمز حکام نے ان کے مؤکلوں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے 8 لاکھ 90 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل منتقل کرنے کا الزام عائد کیا، حالانکہ تمام لین دین سرکاری نیلامی اور قانونی ادائیگی کے ذریعے کیا گیا تھا۔

وکیل کے مطابق کسٹمز اہلکار متعدد بار بغیر سرچ وارنٹ کمپنی کے احاطے میں داخل ہوئے اور قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر کارروائیاں کیں۔

رپورٹ کے مطابق کسٹمز حکام نے عدالت کو بتایا کہ کیماڑی میں 2 آئل ٹینکرز کو روک کر ان کی تلاشی لی گئی تھی اور ڈرائیوروں نے ڈلیوری آرڈرز کو دوبارہ استعمال کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کمپنی غیر قانونی پیٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت میں ملوث ہے، کسٹمز حکام کی کارروائی قانون کے مطابق تھی اور فوری کارروائی کے دوران سرچ وارنٹ حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمہ 4 روز کی تاخیر سے درج کیا گیا، جبکہ ایف آئی آر میں جرم کی تاریخ اور وقت جیسے بنیادی تقاضے بھی درج نہیں کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے کہا کہ کسٹمز ایکٹ کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کرنا لازمی ہے ۔ صرف ہنگامی حالات میں بغیر وارنٹ محدود نوعیت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عدالت کے مطابق ٹینکرز کی ضبطگی کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کیے جا سکتے تھے، تاہم اس کے بعد کی کارروائیوں کے لیے کسٹمز حکام نے مجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا، جس کے باعث پوری قانونی کارروائی مشکوک ہو گئی۔

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسٹمز حکام نے ڈلیوری آرڈر جاری کرنے والے اداروں کے متعلقہ افسران کے بیانات بھی قلمبند نہیں کیے، جبکہ بادی النظر میں درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسٹمز حکام یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اختیارات قانون کے مطابق استعمال کریں۔ موجودہ کیس میں کسٹمز حکام کی سرچ، ضبطگی اور تفتیش قانون سے مطابقت نہیں رکھتی۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے حکم دیا کہ ضبط شدہ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور سیل کی گئی املاک فوری طور پر درخواست گزاروں کے حوالے کی جائیں۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp