LogoTuesday, February, 3, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد

شاہد غزالی

20 hours ago | بزنس

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد

کراچی : پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (PILER) کے زیر اہتمام ایک روزہ کانفرنس بعنوان، کم از کم اجرت کے نفاذ پر مؤثر عمل درآمد، پائیلر کے اصغر علی ہال میں منعقد کی گئی-

کانفرنس سے پائیلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عباس حیدر، صوبائی سیکرٹری محنت ساجد جمال ابڑو، سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے رہنما حسین نقی، ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز سیسی وسیم جمال, NTUF کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور، HRCP کے وائس چیئرپرسن قاضی خضر، پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی، ڈاکٹر ریاض شیخ چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر پائیلر، ہوم بیسڈ فیڈریشن کی زہرہ اکبر، وپڈا یونین کے لطیف نظامانی، اکارڈ پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر ذوالفقار شاہ، ڈیموکریٹو ورکرز یونین کے لیاقت ساہی، LBL کی اینا، ایشیا فلور ویج کی ابرامی، WRC کی عابدہ علی، لیبر رائٹس کی ایکسپرٹ کرن زبیر، ، ریاض حسین بلوچ ایڈوکیٹ سندھ ہائی کورٹ، مزدور رہنما شمیم علی، لیبر رائٹس ایکسپرٹ فرحان حیدر نے خطاب کیا-

کانفرنس کے مقررین نے اپنے خطاب کے دوران شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کمزور طبقوں خصوصاً مزدوروں کے معاشی اور سماجی حقوق پامال ہورہے ہیں، سندھ کی 80 فیصد صنعتوں میں محنت کشوں کو کم ازکم اجرت نہیں ملتی اور یہی رجحان ملک بھر میں نظر آتا ہے، یونین سازی ہر شہری کا حق ہونے کے باوجود 98 فیصد مزدور اپنے اس حق سے محروم ہیں، ریاست اپنے شہریوں کو سماجی تحفظ دینے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔

کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ آج سرمایہ دار مزدوروں کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں قدغن لگا کر اربوں روپے کی کرپشن کر رہے ہیں
ایک طرف یہ مزدور کو کم ازکم تنخواہ نہیں دیتے تو دوسری جانب مزدور سے 12 گھنٹے سے زائد کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی بغیر کسی اوور ٹائم کے، سندھ کے سوشل سیکوریٹی کے ادارے میں صرف 8 لاکھ محنت کش رجسٹرڈ ہیں مگر یہ فیکٹری مالکان دیگر لاکھوں مزدوروں کو SESSI میں باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں کرواتے۔
اگر ہم سماجی شعبوں کے مختص بجٹ کی بات کریں تو صحت کے شعبے میں GDP کا.98 فیصد تعلیم کا بجٹ 1.56 فیصد اور سماجی تحفظ کے لیئے صرف
1.1 فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔یہ خطے کے دیگر ممالک سے بھی کم ہے یعنی یہ شعبے حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں.

کانفرنس کے مقررین نے موجودہ کم از کم اجرت کو پاورٹی ویج قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنخواہ عزت نفس کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے ناکافی ہے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں کم از کم تنخواہ کی جگہ Living Wage مقرر کی جائے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ مزدوروں کے تمام مسائل کی جڑ لیبر قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا اور دوسری جانب جن اداروں کے ذمہ کم ازکم اجرت پر عملدرآمد کروانا ہے وہ اپنے کام میں ناکام نظر آتے ہیں۔ کرپشن اقربا پروری اور گڈ گورننس کا فقدان مسائل کے حل نہ ہونے کی ایک اہم وجہ ہے۔

کانفرنس کے مطالبات منظور کئے

۔ کم از کم اجرت کا نفاذ فوری طور پرکیا جائے۔
ـ مزدوروں کی تنخواہوں کی ادائیگی بذریعہ چیک کی جائے۔
ـ فیکٹری انسپکشن کے نظام کو بہتر بنایا اور انسپکشن کی نگرانی کے لئے ٹریڈ یونین، انسانی حقوق کی تنظیموں، لیبر سپورٹ آرگنائزیشن اور ملکان پر مبنی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
ـ انٹرنیشنل برینڈز اپنے سپلائر کو مزدوروں سے متعلق قوانین کا پابند بنائیں۔
ـ کم از کم اجرت کے تعین کے لیئے ایک ماہر معیشت کو بطور مشیر ویج بورڈ میں شامل کیا جائے ۔
۔ یونین بنانے کی آذادی دی جائے جو کہ آئین کے اندر موجود ہے۔
۔ حکومتی اداروں کو مزدوروں سے متعلق قوانین پر عملدر آمد کرنے کا پابند کیا جائے۔

نمایاں خبریں