LogoTuesday, February, 3, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

نصرت مرزا کا کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ

نصرت مرزا کا کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ

Hanif

30-Jan-2026 | پاکستان

نصرت مرزا کا کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ

کراچی : شہری رابطہ کونسل کے صدر نصرت مرزا نے سندھ میں رائج کوٹہ سسٹم کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے وقت جو اسباب بتائے گئے تھے وہ اپنے اہداف پورے ھو چکے ہیں اس لئیے حکومت وقت خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ھوئے اس کے خاتمے کا علان کرے کیونکہ اس کا سب جاتی رہنا شہری ابادی کے حق تلفی ھے ، مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس غیر منصفانہ نظام کے خاتمے کا اعلان کرے۔ وہ کراچی کے صحافیوں اور عمائدین شہر کے ساتھ مقامی ھوٹل میں منعقدہ پروگرام سے خطاب فرما رہے تھے اس موقع پر انہوں نے اندرون سندھ IBA سمیت متعدد تعلیمی ادارے موجود ہیں ، اس لئیے اب جبکہ کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے وقت جو مقاصد اور اہداف مقرر کیے گئے تھے وہ مکمل ہو چکے ہیں، لہٰذا اب اس کا برقرار رہنا کراچی سمیت شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

نصرت مرزا نے کہا کہ کوٹہ سسٹم جاری رکھنا شہری حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ انصاف کے عالمی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کے باعث کراچی کے تعلیم یافتہ نوجوان ملازمتوں اور ترقی کے مساوی مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔

نصرت مرزا کا کہنا تھا کہ کراچی اور سندھ کی موجودہ صورتحال میں لوٹ مار کے واقعات، بڑھتے ھوئے ٹریفک حادثات اور ناپسندیدہ و غیر منصفانہ فیصلوں نے شہر کو آتش فشاں بنا دیا ھے ، اس لئیے ان وجوہات کا خاتمہ کیا جائے جو سندھ کو تقسیم کر رہے شہریوں کو شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے، اور عوام خود کو سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر نظرانداز محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو اس کے آئینی، انتظامی اور معاشی حقوق دیے جائیں تاکہ شہر کے مسائل کا مستقل حل ممکن ہو سکے۔انہوں نے حالیہ مردم شماری پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی اصل آبادی کو دانستہ طور پر کم ظاہر کیا گیا ہے، جس سے شہر کے وسائل، نمائندگی اور ترقی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ایک شفاف اور غیر جانبدار مردم شماری کرائی جائے۔شہری رابطہ کونسل کے صدر نے کراچی کے انتظامی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے بنیادی فیصلے مقامی سطح پر نہیں کیے جاتے، جس کے باعث مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کا منصب ایک مخصوص لسانی اکائی تک کیوں محدود رکھا گیا ہے، اور کہا کہ حکومت خود صوبے میں تقسیم کو فروغ دے رہی ہے۔

نمایاں خبریں