خلیجی رہنماؤں کی درخواست، امریکا نے ایران پر مجوزہ فوجی کارروائی عارضی طور پر روک دی

ویب ڈیسک
بین الاقوامی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ خلیجی ممالک کے سربراہان کی درخواست پر ایران پر آج ہونے والا مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کر دیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ حملہ آج کیا جانا تھا جس کے لیے تمام تر فوجی تیاریاں مکمل تھیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اماراتی صدر محمد بن زائد النہیان نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ کے بقول ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر متعلقہ ممالک کے لیے قابلِ قبول ہوگا جس کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور دیگر عسکری حکام کو ایران پر فی الحال حملہ روکنے کی ہدایت دیدی ہے تاہم ٹرمپ نے متنبہ بھی کیا کہ قابلِ قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکی فوج کو کسی بھی لمحے ایران پر حملہ کردے گی۔
خیال رہے کہ امریکی اور مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف محدود اور بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کے مختلف آپشنز تیار کر رکھے تھے۔
بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکی بحریہ اور فضائیہ کو خلیج میں ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا جبکہ اسرائیل بھی ممکنہ مشترکہ کارروائی پر غور کر رہا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کسی بڑے جنگی تصادم سے بچنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ پورے خلیجی خطے، عالمی تیل تجارت اور معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
نمایاں خبریں
امریکا کو ہماری شرائط ماننا ہوں گی، ایران کے خلاف نئی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا، ابراہیم رضائی

ایران کو پُرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودگی کا مکمل حق حاصل ہے، روس

امن معاہدے کیلئے امریکا کی ایران پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کی پیشکش

ایران کیلئے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، مذاکرات نہ ہونے پر ٹرمپ کا سخت انتباہ

امریکا اور ایران کے ممکنہ مذاکرات سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں

Automate. Scale. Grow with Webrix.
Helping businesses grow digitally