LogoTuesday, February, 3, 2026

News Point – Latest Urdu News from Pakistan & World

چار روزہ 18 ویں عالمی اردو کانفرنس 25 دسمبر سے شروع ہو گی

چار روزہ 18 ویں عالمی اردو کانفرنس 25 دسمبر سے شروع ہو گی

Hanif

16-Dec-2025 | ادب و ثقافت

چار روزہ 18 ویں عالمی اردو کانفرنس 25 دسمبر سے شروع ہو گی

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے 4 روزہ اٹھارہویں عالمی اردو کانفرنس 2025ء جشنِ پاکستان کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کا انعقاد آڈیٹوریم II میں کیا گیا، جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، معروف شاعرہ زہرا نگاہ، ماہرِ تعلیم و دانشور پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، نائب صدر منور سعید، جوائنٹ سیکریٹری نور الہدیٰ شاہ اور سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی نے بریفنگ دی جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔  اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ 4 روزہ ’عالمی اردو کانفرنس 2025ء جشنِ پاکستان‘ کا آغاز جمعرات  25 دسمبر کو کیا جائے گا جو 28 دسمبر تک آرٹس کونسل میں جاری رہے گی، فاطمہ ثریا بجیا، مشتاق احمد یوسفی سے لے کر انتظار حسین سمیت تمام بڑے ادیبوں نے اپنا دستِ شفقت میرے سر پر رکھا، عالمی اردو کانفرنس کی بنیاد ہم سب نے مل کر رکھی۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے میں میڈیا کا شکر گزار ہوں جنہوں نے 40 دن تک مسلسل کوریج کے ذریعے ورلڈ کلچر فیسٹیول کو پوری دنیا تک پہنچایا، میڈیا پورا سال ثقافتی سرگرمیوں کی کوریج کرتا ہے، چاہے وہ سکھر، حیدر آباد میں کوئی فیسٹیول ہو، کوئٹہ میں ہو، لاہور یا کشمیر میں، ہم 10 ہزار فیسٹیول بھی کر لیں وہ کم ہیں، پاکستان لٹریچر فیسٹیول کو پورے ملک میں لے کر جا رہے ہیں، ورلڈ کلچر فیسٹیول نے پوری دنیا کا ثقافتی مرکز کراچی منتقل کیا۔محمد احمد شاہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ پاکستان کا دارالحکومت پہلے کراچی تھا اب ثقافت کا دارالحکومت کراچی ہے، ہماری ثقافت ادبی مورچہ ہے، جس قوم کی ادبی اور ثقافتی شناخت ختم ہو جائے وہ قوم برباد ہو جاتی ہے، جو لوگ اس دنیا سے چلے گئے وہ سب اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ کسی بھی قوم کی شناخت اس کی ثقافت ہوتی ہے۔صدر آرٹس کونسل نے کہا کہ عالمی اردو کانفرنس ہم نے 18 سال پہلے شروع کی، یہ دنیا کی سب سے بڑی اردو کانفرنس ہے، جب ہم نے اردو کانفرنس شروع کی اس وقت نسلی بنیاد پر یہاں لوگوں کا قتلِ عام جاری تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈائیلاگ کے ذریعے اپنی بات آگے پہنچائی، ہم نے اردو کانفرنس میں ملک کی مقامی زبانوں کو بھی شامل کیا، پاکستان سمیت دنیا بھر سے تمام ادیب اور شعراء اردو کانفرنس میں آ رہے ہیں۔محمد احمد شاہ کے مطابق اس مرتبہ ہم 1947ء سے اب تک پاکستانی ادب کا جشن منا رہے ہیں، جتنے بڑے شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار ہیں اور جو لوگ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں ان سب پر اس کانفرنس میں بات ہو گی، نمایاں ادیبوں کے ساتھ نشست رکھی گئی ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، ’اے آئی کے ادب پر اثرات‘ موسمیاتی تبدیلی، یادِ رفتگاں سمیت کئی اہم موضوعات پر بات چیت ہو گی، دو عالمی مشاعرے ہوں گے جبکہ کانفرنس میں ایاز فرید اور ابو محمد قوال بھی پرفارم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے تقریباً 100 سے زائد ادیب و شعراء پاکستان آنا چاہتے تھے مگر سفارتی تعلقات معطل ہونے کے باعث ہم نے کسی کو دعوت نامہ نہیں بھیجا، یہ صورتِ حال ہم پر مسلط کی گئی ہے، دونوں ممالک کے ادیب جنگ کے خلاف ہیں، جنگیں ہتھیار سے نہیں لڑی جاتیں، ہم نے جنگ کے خلاف پاکستان اور ہندوستان کے ادیبوں نے قراردادیں منظور کی تھیں، دہلی آرٹس کونسل سے اس کا جواب بھی آیا، ہمیں پہلے اپنی قوم کو مضبوط کرنا ہو گا۔

نمایاں خبریں